جعلی اورسستی کریمیں جلد کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، ماہرین


 جمعرات ۱۰ آگست ۲۰۱۷    ایک ھفتہ پہلے     ۳۹     اسلام آباد   پرنٹ نکالیں

رپورٹ    ویب ڈیسک   :خوبصورت نظر آنا خواتین کا حق ہے اور وہ اس حق کے حصول میں حق بجانب بھی ہیں، خواتین خوبصورت اوردل کش نظرآنے کے لیے مختلف کریموں کا استعمال کرتی ہیں، اگر یہ کریمیں خالص اجزاء سے تیار نہ کی گئیں ہوں تو ان کا استعمال جلد کے ساتھ ساتھ صحت کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ شہر کی مختلف مارکیٹوں میں رنگ گورا کرنے داغ دھبوں کو دور کرنے والی دانوں اور پھنسیوں سے نجات دلانے والی بہت سی ایسی کریمیں دستیاب ہیں، جنہیں کاسمیٹک پروڈکٹ کی جانب پڑتال کرنے والے ادارے کو چیک نہیں کروایا جاتا۔ ایسی تمام کریمیں جو چھوٹی‘ بڑی کاسمیٹک کی دکانوں اورپارلر میں فروخت ہو رہی ہیں اسکن الرجی کا سبب بنتی ہیں ان کریموں کو فروخت کا لیبل بھی لگادیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کریمیں خرید سکیں۔معاشرے کی بدلتی سوچ اور گوری رنگت کو ترجیح دینے کے باعث کئی لڑکیاں اور لڑکے ایسی کریم استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ معاملہ ایک خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے جس نے وبائی بیماری کی شکل اختیار کرلی ہے، بد قسمتی سے ملک میں ایسی نقصان دہ میک اپ کاسمیٹکس کو بیچنے کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس کا کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔ خواتین کو ان کریموں کا استعمال کرنے سے قبل ان کے بارے میں تمام معلومات حاصل ہونی چاہیئں، ان کریموں کے استعمال سے ویسے نتائج تو ضرور مل جاتے ہیں جو چاہیے، لیکن بہت کم عرصے تک کے لیے، آہستہ آہستہ ان کی جلد کافی حساس بن جاتی ہے اور دانے نکلنا شروع ہوجاتے اور کچھ معاملات میں تو چہرے پر بال آجاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کسی ایسی کریم کے استعمال کے بعد جس میں شامل ہونے والے اجزاء کو برداشت کرنے کی طاقت اس خاتون میں نہ ہو تو وہ فوری طورپر الرجی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پورے جسم پر خارش شروع ہوجاتی ہے اور جسم پر لال دھبے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جلد کو گورا بنانے والی کریموں میں اعلیٰ سطح پر مرکری، لیڈ، آرسینک اور ہائیڈرو کیونون شامل ہوتا ہے، ان مواد پر بین الاقوامی سطح پر میک اپ کے سامان میں پابندی لگائی جاچکی ہے۔ خواتین اکثر وبیش تر جھریاں‘جھائیاں اور کیل مہاسوں سے پریشان دکھائی دیتی ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر روز نئی نئی کریمیں بھی آزماتی رہتی ہیں ایسی تمام غیر معیاری کریمیں جلد کی بے شمار بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ۔ جن میں سے ایک الرجی ہے۔ اس لیے کسی بھی کریم کو استعمال کرنے سے پہلے اس کے معیارکے بارے میں ضرور معلومات حاصل کریں،اکثر کریموں کی خوشبو بھی الرجی کا سبب ہوتی ہے جس کا اندازہ عموماً خواتین کو نہیں ہوپاتا وہ کریم استعمال کرنے کے بعد مسلسل خارش‘ جلن اوردیگر پریشانیوں میں گرفتار ہوجاتی ہیں۔ غیر معیاری اورسستی کریمیں استعمال کرنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے چہرہ جھلس گیا ہو، یہ کریمیں چہرے کی اندرونی جلد کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، کچھ کریمیں تو اس حد تک خطرناک ہوتی ہیں کہ ان سے جلد کے کینسر کا خطرہ بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ خواتین سب سے زیادہ ان کریموں سے متاثر ہوتی ہیں جس میں کم وقت میں رنگ گورا کرنے کا دعویٰ درج ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آج سے چند سال قبل سو میں سے دو یا تین خواتین کاسمیٹک الرجی کا شکار ہوتی تھی لیکن اب کاسمیٹک الرجی کا شکار ہونے والے افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دس پندرہ سال پہلے تک لوگ الرجی نامی کسی بیماری سے واقف نہیں تھے آج ہر دس میں سے ایک فرد کو الرجی کا مرض لاحق ہے، اس لیے الرجی موجودہ دور کاایک اہم مسئلہ بن چکی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین چہرے پر لگانے والی کریموں کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں، خریداری سے پہلے لیبل کو اچھی طرح پڑھیں اور یہ تصدیق کریں کہ اس کی تیاری میں کوئی ایسے اجزا شامل تو نہیں کیے گئے جس سے جلد کی بیماریوں کاخطرہ ہو۔