پاکستان میں فروخت 77 میں 11 منرل واٹر برانڈز استعمال کیلئے غیرمحفوظ قرار


 جمع ۱۱ آگست ۲۰۱۷    ایک ھفتہ پہلے     ۲٦     اسلام آباد   پرنٹ نکالیں
(فائل فوٹو)

رپورٹ    ویب ڈیسک   :اسلام آباد: پاکستان کونسل فار ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی اپریل تا جون 2017 کی رپورٹ کے مطابق پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود بازار میں بوتلوں میں موجود آلودہ پانی کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اپریل تا جون کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ، پشاور، گلگت، ملتان، لاہور، بہاولپور، ٹنڈو چام اور کراچی سے بوتلوں میں فروخت ہونے والے منرل واٹر برانڈز کے 77 نمونے اکھٹے کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 77 میں 11 برانڈز ایسے تھے جو کیمیائی اور خردبینی حیاتیات سے آلودہ (chemical and microbiological contaminations) ہونے کی وجہ سے پینے کے لیے غیر محفوظ ثابت ہوئے۔ ان 11 برانڈز میں نیو پریمیئر، نیچرل پیور واٹر، لائیوون، الشلال، ایکوا جین، وے، اسمارٹ منرل واٹر، السحر، ڈیورو اور دو آب واٹر شامل ہیں۔ پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق آرسینک کی اضافی مقدار کئی جلدی امراض، ذیابیطس، گردوں کے امراض، بلند فشار خون، دل کی بیماریوں، پیدائشی خرابیوں سمیت کئی اقسام کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 8 برانڈز جن میں فریش لائف، الشلال، ایکوا جین، وے، اسمارٹ منرل واٹر، السحر، ڈیورو اور دو آب شامل ہیں خردبینی حیاتیات سے آلودہ ہونے کی وجہ سے غیر محفوظ تھے۔یہ آلودگی ہیضہ، ڈائریا اور ہیپاٹائٹس سمیت مختلف امراض کا باعث ہوسکتی ہے۔