پاکستان میں تعلیم کو ادھورا چھوڑنے والے طلبہ کی تعدادمیں اضافہ باعث تشویش ہے،میاں محمد ادریس


 جمع ۱۱ آگست ۲۰۱۷    ۲ ماہ پہلے     ۴۴     فیصل آباد   پرنٹ نکالیں

رپورٹ    محمد رضوان   :فیصل آباد: پاکستان میں تعلیم کو ادھورا چھوڑنے والے طلبہ کی تعدادمیں زبردست اضافہ باعث تشویش ہے تاہم ان کو تعلیم دے کر پاکستان کا کارآمد شہری بنانے کے سلسلہ میں سسٹم فاؤنڈیشن کی طرف سے 2 سال میں میٹرک کرانے کا پروگرام قابل تقلید جہاد ہے۔ یہ بات ستارہ کیمیکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں محمد ادریس نے میٹرک کے سالانہ امتحان میں سسٹم فاؤنڈیشن کے تحت نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں دی گئی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہی جس میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر محمد سعید شیخ ، سینئر نائب صدر رانا سکندر اعظم اور نائب صدر انجینئر احمد حسن کے علاوہ ممتاز تاجر راہنما خالد پرویزشیخ اور سسٹم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد مسعود نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سسٹم فاؤنڈیشن کے طلبہ نے ملی نغموں کے علاوہ ٹیبلیو، خاکے اور دیگر رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کئے۔ میاں محمد ادریس نے کہا کہ تعلیم کو ادھورا چھوڑنے والے طلبہ نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ ملک پر بھی بوجھ بن جاتے ہیں اس لئے انہیں بنیادی تعلیم دے کر ہنر مند بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جبکہ سسٹم فاؤنڈیشن نے ان طلبہ کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے اوپر لے کر دراصل ملک و قوم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ انہوں نے پروفیسر محمد مسعود کو رول ماڈل قرار دیا اور کہا کہ نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیئے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ پروفیسر محمد مسعود نے سکول چھوڑنے والے طلبہ میں جو ویلیو ایڈیشن کی ہے اس سے ملک کی مجموعی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو تاجروں کے اس پلیٹ فارم سے ایک الگ سوشل کارپوریٹ ریسپانسبلیٹی (سی ایس آر)کمیٹی قائم کرنی چاہیئے جو تعلیم ادھوری چھوڑنے والے طلبہ کے معاملات دیکھے تا کہ ان نوجوانوں کو ضروری تعلیم دے کر قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں فیصل آباد چیمبر کی مجلس عاملہ کے ارکان کے علاوہ ان مخیر حضرات کو بھی شامل کیاجائے جو فکری اور عملی طور پر اس کار خیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ فیصل آباد تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے اس سالانہ امتحان میں ادھوری تعلیم چھوڑنے کے بعد سسٹم فاؤنڈیشن میں آنے والے ایک طالب علم نے 96 فیصد نمبر حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ 1998 میں سسٹم فاؤنڈیشن کا آغاز ایک کمرے کے سکول سے ہوا تھا جبکہ آج اس کی 7 برانچیں کام کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ رہے ہیں ان کیلئے صرف فیصل آباد میں سسٹم فاؤنڈیشن کی کم از کم 40 سے 50 برانچیں ہونی چاہیءں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے نجی تعلیمی اداروں کی خدمات کوشاندار الفاظ میں پیش کیا اور کہا کہ وہ حکومتی کمزوریوں کے باوجود فروغ تعلیم کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب اعدادو شمار کے مطابق نصف سے بھی زیادہ بچے اور بچیاں اس وقت نجی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پرائمری سطح کے سکولوں میں داخلہ کی شرح اس خطہ میں سب سے کم ہے جبکہ سکول چھوڑنے والے بچوں کی وجہ سے یہ صورتحال مزید گھمبیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تعلیم کے شعبہ کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے اور اس کیلئے ہر ممکن مالی اور انتظامی وسائل مختص کرنے چاہیءں۔ مزید برآں سکول چھوڑنے والے بچوں کیلئے تکنیکی پروگرام بھی شروع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ یہ بچے ہنر سیکھ کر نہ صرف اپنے لئے با عزت روزگار حاصل کر سکیں بلکہ پاکستان کی ترقی کیلئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے سسٹم فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر محمد مسعود کی کوششوں کو بھی سراہا جو سکول چھوڑنے والے بچوں کو 2 سال میں میٹرک کرا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو نہ صرف جاری رہنا چاہیئے بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہونا چاہیئے۔ خالد پرویز شیخ نے بھی سسٹم فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ادھوری تعلیم والے طلبہ کو 2 سال میں میٹرک کرانے کے پروگرام کو سراہا اور کہا کہ ان برانچوں میں جہاں دن میں میٹرک کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں شام کے اوقات میں ایف اے کی کلاسیں شروع کی جا سکتی ہیں تا کہ میٹر ک کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑنے والوں کو دوبارہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع مہیا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سسٹم فاؤنڈیشن کی جتنی برانچیں قائم ہیں وہاں کم از کم ایک ایک برانچ مزید قائم کی جائے تا کہ تعلیم ادھوری چھوڑنے والے بقیہ طلبہ کو بھی تعلیم مکمل کرنے کا موقع مہیا کیا جا سکے۔ آخر میں میاں محمد ادریس نے سسٹم فاؤنڈیشن کی ہر برانچ میں سے پہلی دس پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات میں انعامات بھی تقسیم کئے۔