دنیا کو تبدیل کرنے کا عزم، امیر ترین افراد نے تنظیم بنالی


 جمعرات ۲۴ آگست ۲۰۱۷    ۲ ماہ پہلے     ۴۸     واشنگٽن   پرنٹ نکالیں
(فائل فوٹو)

رپورٹ    ویب ڈیسک   :واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین خاندانوں نے دی امپیکٹ نامی ایک گروپ تشکیل دیا ہے جس کے تحت غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کر کے ان کی زندگیاں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ شاندار کارنامہ جسٹن روکفیلر اور جوش کوہن کے ذہن کی پیداوار ہے۔ اس تنظیم یا منصوبے بانی اراکین میں لیزل پرٹزکر، جیسن اینگل اور جم سورنسن شامل ہیں۔ اس منصوبے پر بات کرتے ہوئے دی امپیکٹ کی سی ای او ایبیگیل نوبل کا کہنا ہے کہ کوئی بیرونی امداد یا خیرات ان مشکلات کو حل نہیں کر سکتیں جن کا سامنا ہماری موجودہ دنیا کو درپیش ہے۔ ہمیں اس کیلئے بزنس اور کیپیٹل مارکیٹس کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس کیلئے دنیا کے اہم ترین خاندانوں کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ خاص طور پر ان خاندانوں کے نوجوان افراد کے ساتھ جو اپنے باپ داد کی جانب سے شروع کیے گئے خیراتی کاموں کو صحیح سمت میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ دی امپیکٹ کا قیام 2015ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ ان دو سالوں میں اس تنظیم کے معاہدے پر 125 امیر ترین خاندانوں نے دستخط کر دیے ہیں، جن میں حالیہ شامل ہونے والے برازیل اور جنوبی کوریا کے خاندان بھی شامل ہیں۔ دی امپیکٹ صرف ایک اخلاقی معاہدہ ہے جس میں کسی قسم کی کوئی قانونی پیچیدگیاں نہیں ہیں۔ دنیا میں امیر ترین خاندان اس تنظیم میں جتنا چاہتے ہیں دل کھول کر ڈونیٹ کر سکتے ہیں۔