اسلام آباد: بلوچستان میں بلوچی بولنے والے افراد کی تعداد کم ہوگئی


 پير ۱۱ ۲۰۱۷    ایک ماہ پہلے     ۴۴     اسلام آباد   پرنٹ نکالیں
فائل فوٹو

رپورٹ    ویب ڈیسک   :اسلام آباد: بلوچستان کے 21 اضلاع میں گذشتہ 19 سالوں کے دوران بلوچی بولنے والے افراد کی تعداد میں کمی جبکہ 9 پشتون اکثریتی اضلاع میں آبادی میں کوئی اضافہ سامنے نہیں آسکا۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی مجموعی اوسط آبادی میں قومی اوسط 2.4 فیصد کی نسبت کہیں زیادہ اضافہ ہوا، اور بلوچستان میں اضافے کی شرح 3.37 فیصد رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ وفاقی دارالحکومت میں 4.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے اب تک 25 اگست کو جاری ہونے والے مردم شماری کے نتائج پر سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان نتائج پر قوم پرست افراد کا کوئی تبصرہ سامنے آیا ہے۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق 19 سالوں کے دوران صوبہ بلوچستان کے 21 اضلاع میں جہاں بلوچ باشندوں کی اکثریت تھی، بلوچ آبادی 61 فیصد سے کم ہو کر 55.6 فیصد ہوگئی۔ تاہم 1998 میں ملک بھر میں موجود بلوچ افراد کی کُل تعداد 4 ملین کی نسبت 2017 میں یہ تعداد 6.86 ملین ہوچکی ہے۔ خیال رہے کہ ان اعداد و شمار میں کوئٹہ اور سبی اضلاع کی آبادی شامل نہیں جہاں بلوچ اور پشتون سمیت مختلف قومیتوں کے افراد رہائش پذیر ہیں۔مردم شماری کے دوران اکھٹا کی گئی معلومات کے مطابق اب کوئٹہ میں 2.275 ملین افراد آباد ہیں جو بلوچستان کی کُل آبادی کا 18.4 فیصد حصہ ہے۔ خیال رہے کہ 1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی آبادی صوبے کی کُل آبادی کا صرف 11.78 فیصد تھی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صوبے کی دیگر اضلاع کی نسبت کوئٹہ کی آبادی میں کہیں زیادہ اضافہ سامنے آیا ہے۔