پنجاب میڈیکل انٹری ٹیسٹ پرچہ آؤٹ اسکینڈل، پرائیوٹ اکیڈمیوں کی جانب سے 2 ارب روپے وصول کرنے کا انکشاف


 اتوار ۰۸ آکتوبر‬‮ ۲۰۱۷    ۲ ھفتے پہلے     ۲٦     لاہور   پرنٹ نکالیں
(فائل فوٹو)

رپورٹ    ویب ڈیسک   :لاہور: پنجاب میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک کرنے کے اسکینڈل میں ایک اور انکشاف سامنے آیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق2 پرائیوٹ اکیڈمیوں نے پرچہ دینے کی مد میں فی امید وار 12 لاکھ روپے تک لیے ۔ انہی پرائیوٹ اکیڈمیوں نے پرچہ تیاری کی مد میں مجوعی طور پر 2 ارب روپے وصول کیے ۔پچھلے 3 برسوں میں ایم بی بی ایس کے 14 پرچے بھی آئوٹ کئے گئے اور یہ نہیں پرچہ آئوٹ کرکے کروڑوں کمانے میں ایک نہیں مختلف گروپ سرگرم ہیں ۔اس سے قبل میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آیا اور سی آئی اے پولیس نے 6 ڈاکٹروں سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور 29 اکتوبر کو دوبارہ امتحان کے انعقاد کا اعلان کردیا گیا۔ملک میں اسپتالوں کی حالت خراب ہے اور ڈاکٹروں کی خراب تراور اس کی اور وجوہات بھی ہوں گی لیکن ایک بھیانک وجہ یہ سامنے آئی کہ پنجاب میں پیسے لے کر ڈاکٹر بنائے جا رہے ہیں۔پنجاب کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں اس سال کی نشستیں صرف 6ہزار405تھیں۔ ڈاکٹر بننے کے لیے 11 کروڑ کے صوبے میں ذہین ترین طالب علم 20اگست اینٹری ٹیسٹ دینے بیٹھےلیکن معلوم ہوا کہ کچھ لاڈلے طالب علموں کے لیے پرچہ پہلے ہی آوٹ ہو چکا تھا۔کہانی آج کی نہیںہے اسکینڈل یہ سامنے آیا ہے کہ نالائق اور نااہل طالب علم پیسے دے کر نہ صرف اینٹری ٹیسٹ پاس کرتے ہیں بلکہ میڈیکل کالجوں میں داخلہ بھی حاصل کر لیتے اور بالآخر ڈاکٹر بھی بن جاتے ہیں۔لاہور میں اس اسکینڈل میں ملوث 9ملزمان بھی پکڑے گئےہیں۔ اینٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد عدالت نے اس کیس کی سماعت کے بعد امتحانی نتائج کو کالعدم قرار دے دیا۔پرچے لیک کرنے والا ایک مبینہ ملزم ڈاکٹر راو بلال نشتر اسپتال میں ادویات سپلائی کرنے کا کام کرتا ہے، اسے بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے ملتان سے گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر بلال کے انکشاف پر سی آئی اے پولیس لاہور نے مزید 5 ڈاکٹروں سمیت 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے راودلشاد، ڈاکٹرحیدرعرف جاتو،ڈاکٹرکاشف رانا، یو ایچ ایس کی ڈپٹی کنڑولر صائمہ تبسم کے نائب قاصد توصیف کو بھی گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈپٹی کنڑولر صائمہ تبسم اور اسٹنٹ ڈائریکٹر جاذب حسین کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیاتاہم یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود نے یونیورسٹی میں ایمرجنسی نافذ کرکے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔عدالتی حکم کے بعد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے 29 اکتوبر کو پھر سے انٹری ٹیسٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔پنجاب کے 13شہروں کے 28مراکز میں 65ہزار طلبہ و طالبات ایک بار پھر انٹری ٹیسٹ میں حصہ لیں گے۔