جامشورو: جامعہ سندھ کی جانب سے ملیر میں کیمپس کے قیام کا فیصلہ


 پير ۱۲ جون ۲۰۱۷    ۲ ماہ پہلے     ۲۲۳     جامشورو   پرنٹ نکالیں

رپورٹ    علی مراد چانڈیو   :جامشورو: جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے کراچی کے ضلع ملیر میں کیمپس کے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے گورکھ ہل اسٹیشن پر سمر کلاسز شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت کے زیر صدارت جامعہ سندھ کے کیمپسز کے پرو وائس چانسلرز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف کیمپسز کے پرو وائس چانسلرز کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وائس چانسلر نے اجلاس کو آگاہی دی کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جامعہ سندھ کی جانب سے صوبے کے مختلف علاقوں میں کیمپسز کے قیام سے غریب نوجوانوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ضلع ملیر میں بھی کیمپس کے قیام کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہوم ورک مکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد وزیراعلیٰ سندھ سے اس سلسلے میں بات چیت کی جائے گی اور ملیر میں جامعہ سندھ کے کیمپسز کے قیام سے غریب نوجوانوں کو ہونے والے فوائد کے بارے میں انہیں آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ ملک کی قدیم جامعہ ہونے کہ وجہ سے جامعہ سندھ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، یونیورسٹی نوجوانوں کے بڑھتی ہوئی آبادی کے حساب سے اپنے کیمپسز بڑھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورکھ ہل اسٹیشن دادو میں سمر کلاسز شروع کرنے کے لیے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کے لیے درخواست کی جارہی ہے۔ فنڈز ملتے ہی موسم گرما کی تعطیلات میں سمر کلاسز گورکھ ہل اسٹیشن پر شروع کرائی جائیں گی، جہاں کا موسم گرمیوں میں زبردست ہوتا ہے۔ انہوں نے پرو وائس چانسلرز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کیمپسز سے متعلق ترقیاتی اسکیموں کی پی سی ون پر نظرثانی کرکے حکومت سندھ کے پاس جمع کرائیں تاکہ رواں مالی سال کے بجیٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز مہیا ہو سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کیمپسز کے لیے سرکاری ایراضی کے حصول کے لیے پی وی سیز خود بھی کوششیں لیں اور حکومت سے رابطے میں رہیں۔ اجلاس میں پرو وائیس چانسلرز ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو، ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی، ڈاکٹر نور محمد جمالی، ڈاکٹر غلام سرور گچل، ایڈوائیزر پلاننگ ساجد قیوم میمن، ڈائریکٹر اسٹیٹس محمد عثمان منگی و دیگر نے شرکت کی۔