پی ٹی سی ایل کا سسٹم جواب دے گیا،فیصل آباد کے متعدد علاقوں میں سروس معطل


 منگل ۱۳ جون ۲۰۱۷    ۲ ھفتے پہلے     ۴۹     فیصل آباد   پرنٹ نکالیں
(فائل فوٹو)

رپورٹ    محمد رضوان   :فیصل آباد: ناقص انتظامی امور‘ عملے کی غفلت اور سال خوردہ مشینری کی وجہ سے فیصل آباد میں پی ٹی سی ایل کا سسٹم جواب دے گیا۔ پی ٹی سی ایل کا عملہ سسٹم ٹھیک کرنے اور صارفین کی شکایات کا ازالہ کرنے کی بجائے رمضان کی آڑ لے کرلمبی تان کر سو گیا۔ انڈس نیوز کے مطابق پی ٹی سی ایل کاسسٹم فیصل آباد میں مکمل طور پر جواب دے چکا ہے اور صارفین کو خدمات فراہمی میں کمپنی کوناممکن حد تک دشواری کا سامنا ہے۔پی ٹی سی ایل کے عملے کے مطابق فیصل آباد کے متعدد علاقوں میں پی ٹی سی ایل کی سروسز بہتر طور پر فراہمی نہیں ہو پا رہی جس کی وجہ پی ٹی سی ایل حکام یہ بتا رہے ہیں کہ سسٹم جواب دے چکا ہے اور صارفین کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔متعدد علاقوں میں پی ٹی سی ایل کے ٹاورکام نہیں کر رہے جبکہ فون سروسز کے علاوہ براڈ بینڈ ‘ آئی پی ٹی وی ‘ چارجی سروس اور دیگر سروسز کی فراہمی میں کمپنی کو مشکلات کا سامنا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل کا سسٹم انتہائی پرانا ہے اور اپنی مدت پوری کر چکا ہے کمپنی نے اس کی بہتری کیلئے عرصہ دراز سے اقدامات نہیں کئے۔ خاص طور پر جھنگ روڈ ایکسچینج اور سرگودھا روڈ ایکسچینج کو تو انتہائی براحال ہے۔شہر کے مرکزی علاقوں میں واقع ایکسچینج کے خراب ہونے کی وجہ سے ملت ٹاؤن‘ سرگودھا روڈ‘ تاج کالونی‘ نور پور‘ مسلم ٹاؤن‘ لاثانی ٹاؤن‘ گرین ٹاؤن‘ ایڈن آرچرڈ‘ اکبر آباد‘ جی اوآرون‘ گلستان کالونی‘ جوہر ٹاؤن‘ لاہور روڈ‘ شیخوپورہ روڈ‘ حاجی آباد‘ نشاط آباد‘ مہدی محلہ‘ اور ارد گرد کی متعدد دیگر رہائشی کالونیوں میں پی ٹی سی ایل کی سروسز کی فراہمی میں مسلسل نہیں ہو پا رہی۔ پی ٹی سی ایل ان علاقوں میں اپنے ہزاروں صارفین کو خدمات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ پی ٹی سی ایل کا مقامی عملہ صورتحال کی بہتری کیلئے سرگرم ہونے کی بجائے روائتی سست روی کا شکار ہے اور صارفین مجبور ہو کر پی ٹی سی ایل کی بجائے دیگر کمپنیوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں ان بگڑتے ہو ئے حالات کے حوالے سے کمپنی کا مؤقف جاننے اور فیصل آباد میں پی ٹی سی ایل کی خراب سے خراب تر ہوتی صورتحال بارے حقائق جاننے کیلئے جی ایم پی ٹی سی فیصل آباد سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا مگروہ کئی روز گزرنے کے باوجود دفتر میں موجود ہی نہ پائے گئے آفس سٹاف نے متعدد مرتبہ کے رابطہ کے باوجود ان کا موبائل نمبر اور صورتحال بارے موقف دینے سے صاف انکار کر دیا۔