دماغی طورپر پریشانی کا شکار افراد بہت جلد گنجے ہو جاتے ہیں، ماہرین


 جمع ۱۴ جولائی ۲۰۱۷    ایک ھفتہ پہلے     ۷۳     لندن   پرنٹ نکالیں
فائل فوٹو

رپورٹ    ویب ڈیسک   :لندن: برطانوی ڈاکٹروں نے اپنے مطالعہ میں کہا ہے کہ بال درحقیقت انسانی صحت کو جانچنے کا بیرو میٹر ہے اسی لیے بہت سی بیماریوں کا پتا لگانےکے لیے ان کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اس لیے بالوں کی بیماریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ اصل بیماری آپ کے جسم کے اندر موجود ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بالوں کو صحت ہمارے خون سے فراہم ہوتی ہے اور جب خون میں میڈی کیشن، ہارمونز یا پھر نیوٹرینٹس کی کمی کے باعث تبدیلی واقع ہوتی ہے تو بالوں کا گرنا اور خشکی جیسے مرض پیدا ہوجاتے ہیں بالکل اسی طرح انسان کا دماغی طورپریشانی کا شکار ہونا بھی بالوں کے گرنے کا باعث بنتا ہے اور اگر اس پر قابو پا لیاجائے تو بال دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ اپنے بالوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں اور علاج کے بعد بھی بالوں کا گرنا، خشکی اور سوکھا پن دور نہ ہوتو فوری طور پر ٹرائی کولوجسٹ سے رابطہ کریں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جو لوگ تھائی رائیڈ سے متعلق بیماریوں اور موسمی بخار کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے بال تیزی سے گرنا شروع کردیتے ہیں اس لیے بالوں کے علاج سے پہلے ان بیماریوں کا علاج کریں تو بالوں کی بیماریاں خود بخود ختم ہوجائیں گی اس کے علاوہ کینسر، دل اور اینیمیا جیسی بیماریاں بھی بالوں کی کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ غذا میں کمی جسم میں پروٹین کی کمی کو جنم دیتی ہے جو ماراسمس کی بیماری کا باعث ہوتا ہے اور اس سے بالوں میں خشکی اور سفیدی اترنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ جسم میں زنک کی کمی بھی بالوں کے گرنے اور سفید کرنے میں کردار ادا کرتی ہے جب کہ تمام ٹرائی کولوجسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ بالوں کے علاج سے قبل اپنے جسم میں موجود بیماریوں کا علاج ضروری ہے۔