دماغی طور پر مردہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش


 جمع ۱۴ جولائی ۲۰۱۷    ایک ھفتہ پہلے     ۴۷     برازیل   پرنٹ نکالیں

رپورٹ    ویب ڈیسک   :ساؤ پالو: جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے یہ مثال برازیل میں دماغی طور پر مردہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش سے سچ ثابت ہوگئی جڑواں بچوں میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے۔ جنوبی برازیل سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ حاملہ خاتون فرینکلین ڈی سلوا اکتوبر میں فالج کا شکار ہوئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔ تاہم طبی معائنے کے دوران پتہ چلا کہ وہ 9 ہفتوں کے جڑواں بچوں کی حاملہ ہیں جو پیٹ میں بخیریت ہیں۔ ڈاکٹروں نے ماں کے جسم کو وینٹی لیٹر پر رکھ دیا، جس کے 123 روز بعد آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش ہوئی۔ اس دوران سارا وقت ماں کے تمام اعضا بالکل درست کام کرتے رہے جیسے وہ صرف اپنے بچوں کو جنم دینے کے لیے ہی زندہ ہو۔ بچوں کی پیدائش کے وقت اسپتال میں کیا ڈاکٹر کیا مریض ہر آنکھ اشکبار تھی۔ بچوں کو جنم دینے کے بعد فرینکلین ڈی سلوا کے جسم کو وینٹی لیٹر سے ہٹادیا گیا۔ فرینکلین کی والدہ نے کہا کہ یہ سارا وقت کانٹوں پر گزرا اور ہر دن خدا سے دعائیں کرتی رہی۔ مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے، وہ بہت پیاری اور بہادر بچی تھی جسے خدا نے اس کام کے لیے منتخب کیا۔ شوہر نے کہا کہ فرینکلین ہمارے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ تھی۔ برازیل بھر سے ان جڑواں بچوں کے لیے ہزاروں ڈالر مالیت کے عطیات، کپڑے اور کھلونے موصول ہورہے ہیں۔ یہ دماغی طور پر مردہ کسی شخص کے جسم کو مصنوعی طریقے سے زندہ رکھنے کی سب سے زیادہ مدت قرار دی جارہی ہے۔ بچوں کی پیدائش فروری میں ہوئی تھی مگر ان کے بچنے کی خبر اب سامنے آئی ہے۔ بچوں کے والد نے بچوں کی پیدائش کو معجزہ قرار دیا ہے ۔ پیدائش کے وقت لڑکی کا وزن 3 پاؤنڈ اور لڑکے کا وزن 2.8 پاؤنڈ تھا۔ بچوں کو ڈاکٹروں نے تین ماہ تک انکوبیٹر میں رکھا اور پھر صحت مند ہونے کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا۔ اب ان کی پرورش ان کی نانی کررہی ہیں۔