ہتھوڑے سے کمر کی مہروں کے درد کا علاج کرنے والا ملائیشین ڈاکٹر


 پير ۱۷ جولائی ۲۰۱۷    ۲ ماہ پہلے     ۱۲٦     کوالالمپور   پرنٹ نکالیں
ڈاکٹر محمدرشدی اپنے ہاتھوں اور انگلیوں سے کمر کے جوڑ اور مہروں کا معائنہ کرتے ہیں

رپورٹ    ویب ڈیسک   :کوالا لمپور: مہروں کا درد اس قدر حساس نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز اس میں بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہیں اور مہروں کی زیادہ مالش سے بھی منع کرتے ہیں لیکن ملائیشیا کا ایک ڈاکٹر ایسا بھی ہے جو مہروں کا علاج کسی حکیمی یا ڈاکٹری طریقے سے نہیں بلکہ ہتھوڑے کی مدد سے کرتا ہے۔ عام طور پر مہروں کے سرکنے کو دیکھنے کے لیے پہلے ایکس رے یا ایم آر آئی کیا جاتا ہے اور پھر اس کی شناخت کے بعد آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے، اس لحاظ سے مہروں کو ہتھوڑے سے بٹھانے کا عمل احمقانہ اور خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ لیکن محمد رشدی حسن ایم آر آئی رپورٹ اور ایکس رے پر اعتبار کرنے کے بجائے اپنے ہاتھوں اور انگلیوں سے کمر کے جوڑ اور مہروں کا معائنہ کرکے وہاں سیاہ مارکر سے نشانات لگا دیتے ہیں۔ اس تسلی کے بعد وہ لکڑی کا ٹکڑا اور ہتھوڑا اٹھاتے ہیں اور ضربوں سے کمر کی ڈسک (مہروں) کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بظاہر اس عمل سے مریض عمر بھر کے لیے بھی اپاہج یا معذور ہوسکتا ہے لیکن رشدی حسن کے مطابق اب تک کسی کو بھی اس علاج سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔ رشدی حسن بڑے فخر سے یوٹیوب اور فیس بک پر ’اسپائنل ٹیپ‘ کے نام سے اپنی ویڈیو اور تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہیں۔ ہڈیوں اور کمر کے مہروں کے ایک ممتاز ماہر ڈاکٹر محی الدین کا اس طریقہ علاج کے حوالے سے کہنا ہے کہ رشدی حسن کی ڈرائنگ بالکل غلط ہیں اور مہروں کا علاج اس طرح سے ممکن ہی نہیں ہے۔