جمعرات ۲۱ مارچ ۲۰۱۹ -

جامشورو: دو ماہ بعد بازیاب ہونے والے بچے نے اہل خانہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا

علی مراد چانڈیو | ایک ھفتہ پہلے

73

No-Image

جامشورو:منگل ۱۲ مارچ: دو ماہ قبل دس سالہ بچے کی گمشدگی اور بازیابی جامشورو پولیس کے لئے وبال جان بن گئی ہے۔

ورثاء کی تلاش کیلیئے سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، مہم کے ذریعے اطلاع ملنے پر آئے ہوئے اہل خانہ کو بچے نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔

جامشورو پولیس کو ٹول پلازہ  سے دس سالہ بچہ مل جس سے معلومات حاصل کی گئی تو اس کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کا نام محمد عمر ہیں اور وہ کراچی بھینس کالونی کا رہائشی ہیں کچھ افراد نے اس کو اغواء کیا تھا جہاں سے وہ فرار ہو کر یہاں پہنچا ہیں بچے کو جامشورو کے ایس او ایس ولیج میں بھیج دیا جس کے بعد مزکورہ بچے کی اطلاع کے لئے شوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی جس پر حیدرآباد قاسم آباد کے رہائشی الاھی بخش نامی شخص  نے جامشورو پہنچ کر بچے کی وراثت کا دعویٰ کیا جس پر ایس ایس پی توقیر محمد نعیم کی جانب سے بچے کو جب اس کے  بھائی اور بہنوں سے ملایا گیا تو بچے نے بھائی اور بہنوں کو پہچاننے سے انکار کر دیا.

مزکورہ بچے کے بھائی نے بچے کا نام میر حسن  اور ولدیت ارباب علی بتایا جس پر ایس ایس پی جامشورو نے بچے کو واپس ایس او ایس کے حوالے کرتے ہوئے بتایا کہ بچے ذہنی طور پر پریشان نظر آ رہے  ہیں اپنی معلومات بھی درست نہیں بتا رہا جبکہ والد کے بارے میں اس نے بتایا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہیں اور ماں نے دوسری شادی کر لی تھی جس پر درست معلومات کے لئے بچے کو ایس او ایس ولیج بھیج دیا گیا ہیں.

بچے کے اپنے بھائی سمیت دیگر کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیا ہیں اس حوالے سے انکوائری کے بعد ہی بچے کو مذکورہ افراد کے حوالے کیا جائے گا اس موقع پر ایس ایس پی نے بچوں کو تواحف دیئے۔ 

Web Portal Developed and Designed by MIT SOFTWARE SOLUTION Hyderabad : http://mitsoftsolution.net, Contact us : (022) 3411371