news

میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے خلاف صحافتی تنظیموں کا احتجاج، شرکا کا دھرنا

اسلام آباد:(پیر: 13 ستمبر2021)  پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے، آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران صحافیوں کی جانب سے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا جائے گا۔ میڈیا پر پابندیوں اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون کے خلاف اسلام آباد میں ملک بھر کے صحافیوں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دوسرے روز بھی دھرنا جاری ہے، یہ دھرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی جاری رہے گا۔


پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے  بھی دھرنے میں شرکت کی۔ انہوں نے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ آواز دبانے کے لیے قانون لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نیا کالا نیا قانون ہے، ہم اس کو بالکل نہیں مانتے۔ قانون بن بھی گیا تو پاکستان کے صحافی اس کے خلاف ڈٹ جائیں گے۔


صدرمسلم لیگ ن شہبازشریف نے بھی دھرنےسےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کالاقانون پاس نہیں ہونےدیں گے، پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں صحافیوں کےساتھ ہیں۔ میڈیا نےخود جدوجہد کرکے یہ آزادی حاصل کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے بھی صحافیوں کے دھرنے میں شرکت کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نےمیڈیا اتھارٹی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر آئینی ادارے کو غیر موثر کیا جا رہا ہے۔ آرڈیننس کے ذریعے میڈیا پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی اے کا میڈیا کے ساتھ مل کر راستہ روکیں گے۔ پی ایم ڈی اے فسطائی اور مسترد حکومت کا مسترد شدہ کالا قانون ہے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے احتجاج میں شرکت کے موقع پر کہا کہ حکومت متنازعہ میڈیا اتھارٹی قائم کرنے پر بضد ہے۔ اتھارٹی سے متعلق قانونی مسودہ تاحال پارلیمان کو دیا گیا نہ ہی صحافتی تنظیموں کو۔


اتھارٹی میں ایسا کیا جو حکومت پارلیمان اور صحافیوں سے خفیہ رکھ رہی ہے؟ پی ایم ڈی اے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا آمرانہ فیصلہ ہے۔ میڈیا ڈویلپمینٹ اتھارٹی حکومت کی سازش ہے جو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ حکومت کے دل میں چور نہیں تو قانونی مسودہ پیش کرے.