news

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: اپوزیشن اراکین کا احتجاج، میڈیا کی آزادی کیلئے نعرے

اسلام آباد:(پیر: 13 ستمبر2021) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے زبردست احتجاج کیا اور میڈیا کی آزادی کیلئے نعرے لگائے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں میں بلاول بھٹو زرداری اور شاہد خاقان عباسی بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوئے۔


صدر مملکت عارف علوی کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا۔ اپوزیشن اراکین بینرز اٹھا کر سپیکر ڈائس کے آگے آ گئے۔ سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر اپوزیشن نے گو نیازی گو کے نعرے لگائے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے میڈیا کی آزادی اور معاشی قتل بند کرو کے نعرے لگائے اور اسی دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی، اسد قیصر ، وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت معزز پارلیمان اور مہمان گرامی کو تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، دعا گو کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور برداشت کی روایات فروغ پائیں۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ہرمثبت قدم کا منفی جواب دیا، کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیریوں کی نسل کشی اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے، وزیراعظم نے خود کوکشمیرکا سفیرکہا، عمران خان نے موثراندازمیں دنیا میں بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا۔ بھارت نے جب فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تومنہ توڑجواب دیا گیا۔ پائلٹ کوخیرسگالی کے جذبے واپس بھیجا اس کوبھی غلط اندازدیا گیا۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندتوا پالیسی سے علاقائی سالمیت کوبہت خطرہ ہے۔


انہوں نے اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ باتیں سن لیں تو سمجھ اورعقل میں آجائیں گی۔ پاکستان میں کاروبارشروع کرنے میں آسانی کے حوالے سے 28درجے بہتری آئی، ایف بی آر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد سے زائد ٹیکس محاصل اکٹھے کیے، کرپشن کے ناسور، ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ترقی سے محروم اور دنیا سے پیچھے رہ گئے۔ کامیاب جوان پروگرام کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے.