news

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے کشمیرمیں مظالم پربھارت کیخلاف جنگی جرائم کا کیس چلانے کا مطالبہ

اسلام آباد:(ھفتہ: 25 ستمبر2021)  وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کشمیرمیں مظالم پربھارت کےخلاف جنگی جرائم کاکیس چلانے اور علی گیلانی کی شہداقبرستان میں تدفین کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیااس وقت 3بڑے بحرانوں سے گزررہی ہے، کوروناوائرس،معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلی، کوروناوائرس اقوام عالم میں امتیاز نہیں رکھتا، وبا اورغیریقینی موسمیاتی تبدیلی سےآنےوالی تباہی کا بلاتفریق سامناہے، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے انسانیت کی بنیاد پرمتحد ہونے کی ضرورت ہے۔


کورونا صورتحال کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب تک بڑی حدتک کوروناپرقابوپانےمیں کامیاب رہا، باہمی تعاون،اسمارٹ لاک ڈاؤن ہماری منصوبہ بندی کامحورہیں، احساس پروگرام کی بدولت ڈیڑھ کروڑخاندانوں کوریلیف پہنچایا۔ وزیراعظم نے منی لانڈرنگ سے متعلق کہا کہ کرپشن کی وجہ سےدنیامیں امیرغریب میں فرق بڑھتاجارہاہے، ترقی پذیرممالک سےدولت کی غیرقانونی منتقلی ہورہی ہے، اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی سےمنفی اثرات مرتب ہورہےہیں، منی لانڈرنگ سےغریب ممالک کی کرنسی پراثرپڑتاہے، دولت کی غیرقانونی منتقلی کیخلاف جامع فریم ورک بنایاجائے۔


اسلامو فوبیا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیاکےخلاف ہم سب کو ملکرکرلڑنا ہوگا، ہمیں مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کوفروغ دیناہوگا، 9/11کےبعدکچھ حلقوں کی جانب سےدہشتگردی کواسلام سےجوڑاگیا، اقوام متحدہ اسلامو فوبیا روکنے کیلئے مکالمے کا آغاز کروائے، ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کوفروغ دیناہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق عمران خان نے کہا کہ کشمیرکی سینئرقیادت کوپابندسلاسل کردیاگیا، 13ہزارکشمیری نوجوان کوٖغیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا اورسیکٹروں کشمیری نوجوانوں کوماورائےعدالت قتل کردیاگیا اور مطالبہ کیا کہ کشمیرمیں مظالم پربھارت کےخلاف جنگی جرائم کاکیس چلایا جائے۔


ان کا کہنا تھا کہ بھارت نےحال ہی میں سیدعلی گیلانی کی میت تک چھین لی ، اسلام کے مطابق حریت رہنماسیدعلی گیلانی کی تدفین کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جنرل اسمبلی علی گیلانی کی شہداقبرستان میں تدفین کامطالبہ کرے ، مسئلہ کشمیرسلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق حل کیاجائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کا جنگی جنوں پاکستان اوربھارت میں روایتی توازن کوخراب کررہاہے، بی جےپی اورآرایس ایس فاشست نظریےپرکام کر رہے ہیں۔


انھوں نے بتایا کہ 1980میں پاکستان افغانستان میں لڑائی میں ہراول دستہ تھا، افغان مجاہدین ہیرو کہلاتےتھے،امریکی صدرانہیں وائٹ ہاؤس بلاتے تھے تاہم روس کی شکست کےافغانستان کا ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ عمران خان نے کہا 9/11کے بعد امریکا کو پاکستان کی دوبارہ ضرورت پڑی، 30لاکھ افغان مہاجرین آج بھی پاکستان میں رہ رہےہیں، 480ڈرون حملے پاکستان  میں کیےگئے، دہشت گردوں سےزیادہ ڈرون حملوں نے عوام کونقصان پہنچایا، ہم نےاتنا نقصان اس لیے اٹھایا کیونکہ ہم نے امریکا کا ساتھ  دیا ، افغانستان سےبھی ہم پر ڈرون حملےکیےگئے، بجائےستائش کےہمیں ہی صورتحال کاذمہ دارٹھہرایاگیا۔


بھارت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیاکی سب سےخوفناک شکل بھارت میں سرائی کرچکی ہے، بھارت میں مساجد شہید، اسلامی ورثےکومٹانےکی کوشش ہورہی ہے، 9لاکھ قابض بھارتی فوجی کشمیرمیں ظلم وستم جاری رکھےہوئےہے اور مقبوضہ کشمیر میں اکثریتی مسلم علاقوں کواقلیت میں بدلاجارہاہے، بھارتی کارروائیاں یواین قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔