news

کالعدم ٹی ٹی پی میں شامل کچھ گروپوں سے مذاکرات کر رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد:(جمع: 01 اکتوبر 2021) وزیراعظم عمران خان ہے کہ ہماری حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان دیا تھا۔

ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔

انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ بات چیت ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی عمل کے بارے میں ہے۔ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں معافی دی جا سکتی ہے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہوں تاہم ممکن ہے کہ طالبان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔