news-details
اسلام آباد

سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور کے بعد ایک اور عمارت گرانے کا حکم

اسلام آباد:(جمعرات: 28 اکتوبر 2021) سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بعد تیجوری ہائٹس کو بھی گرانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بلڈنگ بھی فارغ ہوگئی ہے، عمارت غیر قانونی ہے، دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تیجوری ہائٹس کی اراضی منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بلڈنگ بھی فارغ ہوگئی ہے، سرکاری محکموں میں ٹائٹل تبدیل ہوا ہوگا مگر قانون کے تحت نہیں ہوا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سرکاری محکموں پر دعویٰ کریں وہ آپ کی مرضی، واضح ہوگیا یہ جائیداد آپ کی نہیں، اراضی ریلوے کی ہے یا نہیں یہ ابھی ہم طے نہیں کر رہے، زمین کی منتقلی کا طریقہ کار ہی غلط اختیار کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اراضی ایک سروے نمبر سے دوسرے سروے نمبر میں کیسے منتقل ہوئی، سروے نمبر 190 سےاراضی سروئے نمبر 188 میں غیر قانونی منتقل ہوئی؟ اراضی منتقلی کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ جرم ہے۔
وکیل رضا ربانی نے بتایا ایک اعشاریہ سات ایکڑ اراضی ضابطہ کے تحت منتقل ہوئی، سروے نمبر 190 میں اراضی نہیں تھی اس لیے سروے 188 سے زمین نکالی گئی، جس پر عدالت نے کہا آپ کےمؤکل نےاسٹیمپ ڈیوٹی چوری کی جس پر 10مرتبہ ڈیوٹی کاجرمانہ ہے۔ رضا ربانی نے مزید کہا مؤکلہ شائستہ قریشی کے نام زمین منتقلی پر قانون کے مطابق کارروائی ہوئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سروےنمبر 188 کی کوئی سیل ڈیڈہی نہیں،آپ کی مؤکلہ نے جو سیل ڈیڈکی وہ سروےنمبر 190 کی تھی۔
وکیل رضا ربانی نے عدالت کو بتایا میری مؤکلہ نے تو صرف اراضی خریدی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ یہی بات ہم کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹل تبدیل ہی نہیں ہوا، سروے نمبر 190 کے بجائے 188 کی سیل ڈیڈ کرانی تھی، کم از کم اس وقت پراپرٹی آپ کی نہیں بنتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے طے ہوچکا ہےکہ عمارت غیر قانونی ہے ، دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نےعمارت گرانے سے متعلق وکیل سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کل تک کلائنٹ سے پوچھ کر بتائیں خودگرائیں گے یاہم حکم دیں ؟ آپ پیسے دے کر ریونیو سے کچھ بھی کراسکتے ہیں، یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اگر نہیں رکا تو کبھی نہیں رکے گا۔
وکیل مالک تجوری ہائٹس نے کہا ابھی پوری بلڈنگ بنی بھی نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا جو بھی اسٹرکچر ہے ڈیٹونیٹر سے گرانے کا حکم دیں گے ہم۔ بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔