news-details
پشاور

مذاکرات کیلئے پارلیمان کواعتماد میں لینا چاہیے، دہشت گردوں سے بات چیت کوتسلیم نہیں کریں گے:بلاول بھٹو

پشاور:(اڱارو 30 نومبر 2021ع) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کون ہوتی ہے از خود دہشتگردوں سے مذاکرات کرنے والی، مذاکرات کیلئے پارلیمان کواعتماد میں لینا چاہیے، دہشت گردوں سے بات چیت کوتسلیم نہیں کریں گے۔
پشاور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پاور شو سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھ حکومت چھپ چھپ کرمذاکرات کر رہی ہے، صدر، وزیراعظم، وزیرخارجہ دہشت گردوں سے مذاکرات کا اعلان کر رہے ہیں، یہ کون ہوتے ہیں ازخود دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے والے؟ دہشت گردوں سے بات چیت کوتسلیم نہیں کریں گے، ناکام ترین حکومت پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے، مذاکرات رات کے اندھیروں میں نہیں ہوتے پارلیمان کواعتماد میں لینا چاہیے، ملکی عوام اورپارلیمان کی اجازت کے بغیریہ دہشت گردوں کے سامنے جھک گئے، جودہشت گرد سنگین جرم میں ملوث ان کوپاکستان کی عدالتوں میں پیش کرکے سزا دلوائی جائے۔ قبائلی عوام کے ساتھ وعدوں کوپورا کیا جائے، پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی بہادرعوام نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، دنیا افغانستان میں ناکام ہوئی، خیبرپختونخوا کی پولیس، افواج، ایف سی نے ملکر دہشت گردوں کو شکست دی، سلام پیش کرتا ہوں، پاکستان کے شہدا اور عوام کی بہادری کوسلام پیش کرتا ہوں۔ ایبسلوٹلی ناٹ کہنے والا کلبھوشن یادیو کو این آر او دینے کی کوشش میں ہے، بھارتی جاسوس کے لیے رات کے اندھیرے میں آرڈیننس بھیجا گیا، عمران بھارتی جاسوس کا وکیل بن رہا ہے، بھارتی جاسوس کواین آر او دلوانے کے لیے پارلیمان کواستعمال کرنا چاہتے ہیں، کلبھوشن کے این آراوکی مخالفت سڑکوں،عدالتوں میں بھی کریں گے۔