news-details
اسلام آباد

اپوزیشن کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایک مرتبہ پھر شکست: عددی اکثریت ہونے کے باوجود 3 بل منظور

اسلام آباد:(جمعرات 17 فروری 2022ع) اپوزیشن کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایک مرتبہ پھر شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا، عددی اکثریت ہونے کے باوجود حکومت نے 3 بل منظور کر لیے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن کو شکست سے دوچار ہونا پڑ گیا، قانون سازی کے دوران اپوزیشن اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہی جواباً حکومت ایوان سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس میں دو ترامیم، سمیت 3 اہم بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔
اپوزیشن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے کہنے پر وفاق سے اختیارات اتھارٹیز کو دے رہے ہیں، حکومتی اراکین نے موقف اپنایا کہ ان بلوں کا مقصد اتھارٹیز کو بااختیار بنانا ہے، اوگرا ترمیمی بلوں پر حکومت و اپوزیشن کے مابین عدم اتفاق پر چیئرمین سینیٹ کی جانب سے بلوں کو موخر کرنے کے بعد دوبارہ منظوری کیلئے ایوان میں پیش کرنے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کیا، اپوزیشن نے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا تاہم ایوان سے واک آؤٹ کرنے کے باعث اس معاملے پر بحث نہ ہوسکی۔
وزیر مملکت علی محمد خان نے بل کے لیے تحریک پیش کی، جس کے حق میں حکومت کی جانب سے 29 ووٹ آئے، اپوزیشن کی جانب سے بھی مخالفت میں 29 ووٹ آئے۔ جس پر چئیرمین سینیٹ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پھر مصیبت میرے اوپر آگئی۔ چئیرمین سینیٹ نے اپنا ووٹ حکومت کے پلڑے میں ڈال دیا۔ ایوان بالا میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، اور بل کی مخالفت میں کسی نے نو تک نہ کہا۔
ایوان میں حکومتی بینچز پر ارکان کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے قائد ایوان نے پہلے سے مؤخر کردہ اوگرا ترمیمی بلوں کو ایوان میں دوبارہ سے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بل کو چیئرمین نے مؤخر کیا ہے اس کو مزید پیش نہ کیا جائے اور اگر مؤخر کرنے کے بعد بل پیش کیا گیا تو ہم ایوان سے واک آؤٹ کریں گے۔
ایوان بالا میں علی محمد خان کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری بل ایک مرتبہ پھر پیش کردیا گیا، اور اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا، اپوزیشن کی عدم موجودگی میں ایوان نے اوگرا ترمیمی (دوسرا ترمیمی) بل کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں اپوزیشن رکن سینیٹر مشتاق بھی بل میں ترمیم لے آئے اور کہا کہ قائمہ کمیٹی اجلاس میں میں شریک نہ ہوسکا، اسلئے اس میں ترمیم لانا چاہتا ہوں۔ جس پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آپ کے ترمیم کو ابھی نہیں لے سکتے۔
اوگرا ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یہ لوگ حقائق کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں، ریگولری اتھارٹیز حکومت کے زیر اثر نہیں ہونی چاہئیں، آئی ایم ایف یا مشترکہ مفادات کائونسل کا اس بل سے کوئی تعلق نہیں، اس بل کے ذریعے ہم ریگولیٹری اتھارٹی کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں، ہمارے ہاں ریگولیٹری اتھارٹیز کو کبھی امپاور نہیں کیا گیا، اس میں آر ایل این جی کی تعریف کی گئی ہے، ہم تو اختیارات اپنے پاس رکھنے کے بجائے اتھارٹیز کو سونپ رہے ہیں۔