news-details
اسلام آباد

پارلیمنٹ حملہ کیس: اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت آج فیصلہ سنائے گی

اسلام آباد:(منگل 15 مارچ 2022ع) اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت پارلیمنٹ حملہ کیس کا محفوظ فیصلہ آج سنائے گی، شاہ محمود، اسد عمر، شفقت محمود، پرویز خٹک اور دیگر کی بریت کی درخواستوں کا فیصلہ ہوگا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود اور پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزمان کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دی۔ جج انسداد دہشت گردی عدالت نے کہا کہ دیگر ملزمان بھی آ جائیں تو اس کے بعد فیصلہ سناتے ہیں۔
بعدازں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدم اعتماد کا جمہوری طریقے سے مقابلہ کرے گی، اپوزیشن کے پاس مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں یہ صرف عمران خان کو ہٹانا چاہتے ہیں، اگر ان کے نمبر پورے ہیں تو انہیں اسلام آباد میں اجتماع کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا ن لیگ جدوجہد کر رہی ہے کہ بلاول وزیراعظم بن جائیں ؟ کیا پیپلزپارٹی جدوجہد کر رہی ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بن جائیں ؟ تحریک عدم اعتماد وقتی بلبلا ہے جو ختم ہو جائے گا، سیف اللہ نیازی، شفقت محمود اور میں عدالت پیش ہوئے، سابق دور میں ہم پر بنائے گئے کیس میں طلب کیا گیا تھا، پی ٹی وی پر حملہ کرنے کا جھوٹا کیس بنایا گیا، آج پی ٹی وی حملہ کیس پر فیصلے کا دن ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ پنجاب سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا، لانگ مارچ کو پنجاب میں کہیں روکا نہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، پی ٹی آئی کے جلسوں میں عوام کا جذباتی لگاؤ اور جذبہ تھا، پی ٹی آئی دھرنا دینے نہیں آ رہی، عوام چیئرمین پی ٹی آئی کا نقطہ نظر سننے آ رہے ہیں، تحریک عدم اعتماد کا سامنا آئینی طریقے سے کریں گے، اپوزیشن کو اجتماع کی ضرورت کیوں پڑی ؟ اپوزیشن کے اجتماع سے ظاہر ہوتا ہے ان کے نمبرز پورے نہیں، پی ٹی آئی ستائیس مارچ کو پرامن جلسہ کرے گی۔