news-details

اگر اداروں کے ساتھ جنگ ہوئی تو میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا: شیخ رشید

اسلام آباد: (پير 02 مئي 2022ع) سابق وزیرداخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا، کیوں کہ میں عمران خان کو اس جنگ میں حق بجانب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ تمام معاملات اچھے چل رہے تھے اور ہم سب ایک پیج پر تھے، تاہم پھر ایک دم ہمیں نظر لگ گئی، ہماری درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں، پاک فوج ایک عظیم فوج ہے جو جمہوریت کا فائدہ سوچتی ہے، اور ہرمنتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایم کیوایم اور باپ نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، آدھی ق لیگ چلی گئی، ہم سے کہیں تو غلطی ہوئی ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ مارچ اور اپریل اہم مہینے ہیں، میں فوج سے صلح کا حامی ہوں لڑائی جھگڑے کی حمایت نہیں کرتا اور اب بھی چاہتا ہوں کہ ہماری صلح ہونی چاہئے، اور اس پر کل سے کوشش شروع کردی ہے تاہم ابھی کوئی جواب نہیں آیا، ہمارا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کی تاریخ دے دی جائے، ہم فوج کے ساتھ ہیں اور جب تک یہ حکومت ہے اپنی حکومت کرے۔ ہم ایک ماہ سے اسی کوشش میں ہیں اور عوام کے جذبات بھی سب کے سامنے ہیں، ورنہ اگلے ماہ تو بجٹ آجائے گا اور یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا، اب 31 مئی تک الیکشن کی تاریخ دے دینی چاہئے، اگر عوام نے ساتھ دیا اور اسلام آباد آگئے تو پھر تو ہم الیکشن کی تاریخ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے، ورنہ ہماری سیاست غرق ہوجائے گی، ہم آر یا پار ہوجائیں گے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایم کیو ایم پر پورا یقین تھا، اس لئے کہتا تھا کہ عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، لیکن جس دن ایم کیو ایم پی ڈی ایم کے ساتھ جابیٹھی اس دن میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم ہار گئے، کیوں کہ میں اس جماعت کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کی بنیاد رکھی گئی، میں اور ایم کیو ایم کے بانی اپنی اپنی اسٹوڈینٹس جماعتوں کے رہنما تھے، انہوں نے کبھی غلطی نہیں کی اور بہت سوچ کر چلنے والی جماعت ہے، لیکن اس بار یہ لوگ غلطی کرگئے۔
مسجد نبویﷺ میں حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے واقعے پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں عاشق رسولﷺ ہوں اور اس فعل پر کہتا ہوں کہ نہیں ہونا چاہئے، اگر مجھے اس جرم میں جیل بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، کیوں کہ میں تو ایک کلاشنکوف کے کیس میں 7 سال جیل کاٹ چکا ہوں اور واحد سیاست دان ہوں جو سب سے زیادہ قید میں رہا، میں نے ایک کتاب لکھی ہے جو 2 کروڑ روپے کی بکی ہے اور کل ہی اس کا چیک مجھے ملا ہے، میں ایک اور کتاب لکھوں گا اور 10 کروڑ روپے کماؤں گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی جائیں گے عوام اپنے جذبات کا اظہار کریں گے اور انہیں چور کہیں گے، مدینہ میں تو شاید 5 سے 10 ہزار لوگ ہیں لیکن اگر یہ لوگ لندن چلے گئے تو ایک لاکھ افراد ان کے خلاف مظاہرہ کریں گے، اور لندن کی تاریخ میں انہیں ٹماٹر اور انڈے مارنے کا سب سے بڑا مظاہرہ ریکارڈ قائم کرے گا، انہیں وہاں بکتر بند گاڑی میں جانا پڑے گا۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ عمران خان کبھی نہیں چاہتے کہ مارشل لا لگے، وہ تو انتخابات چاہتے ہیں، وہ تو اس حکومت سے بھی مذاکرات اور بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ اگر حکومت انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے بات کرے اور کوئی ان کی ذمہ داری لے، ورنہ عمران خان ان کی شکلیں دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہے۔