news-details

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین مذہب کیس میں شہباز گل کی حفاظتی ضمانت میں 9 مئی تک توسیع کر دی

اسلام آباد:(جمعہ: 06 مئي 2022ع) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں 9 مئی تک توسیع کر دی۔عدالت نے شہباز گل کو آئندہ سماعت پر پیشی سے استثنیٰ دے دیا جبکہ ڈاکٹر شہباز گل کے کیس کو توہین مذہب کے دیگر کیسز کے ساتھ منسلک کرنے کا بھی حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین مذہب کیس کی سماعت ہوئی۔ شہباز گل زخمی حالت میں عدالت پیش ہوئے۔شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کا بیان موجود ہے کہ انہیں کچلنا چاہیے، پتہ نہیں اگلی سماعت پر میں آپ کے سامنے موجود بھی ہوں گا یا نہیں۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر آئین نہیں ہوگا اداروں کا احترام نہیں ہوگا تو افراتفری ہوگی، اگر ساری چیزیں سیاسی بیانیے پر ہوں گی تو پھر ملک میں افراتفری ہوگی، سیاسی رہنماؤں کا عوامی رائے بنانے میں بڑا کردار ہوتا ہے، کیا عدلیہ کے فیصلے پسند کے ہوں گے تو رویہ اور ہوگا۔
دوران سماعت ڈاکٹر شہباز گل نے چیف جسٹس اطہر من اللہ سے کہا کہ میری پہلی ملاقات آپ سے عدلیہ بحالی تحریک میں ہوئی، میں اسلامی یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر تھا اور اپنے طلبہ کو لیکر کر عدلیہ بحالی تحریک میں جاتا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حکومت کے خاتمے پر جس پہلے بندے پر حملہ ہوا وہ میں ہوں، مریم نواز کا بیان موجود ہے کہ انہیں کچلنا چاہیے، پتہ نہیں اگلی سماعت پر میں آپ کے سامنے موجود بھی ہوں یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ پٹشنر کے وکلا کا کہنا ہے کہ کیسز بد نیتی پر مبنی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھیں شہباز صاحب مجھے نہیں پتہ عدلیہ بحالی تحریک کامیاب ہوئی یا نہیں، عدلیہ بحالی تحریک کا مقصد تھا کہ آئین کے تحت تمام ادارے چلیں، ہم تنقید کو ویلکم کرتے ہیں لیکن اگر آئین اور اداروں کا احترام نہیں ہو گا تو پھر افراتفری ہوگی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ کیا ہم نے لائرز موومنٹ کے مقاصد حاصل کیے؟ اگر ساری چیزیں سیاسی بیانیے پر چلنی ہیں تو اس کا اختتام انتشار پر ہی ہوگا، سیاسی جماعتیں رائے عامہ ہموار کرتی ہیں، پولیٹیکل لیڈر کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔