news-details
اسلام آباد

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی نااہلی کا ریفرنس مسترد کر دیا

اسلام آباد:(بدهه: 11 مئي 2022ع) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی منحرف ارکان کی نااہلی کا ریفرنس مسترد کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن ارکان نے متفقہ فیصلہ دیا کہ منحرف ارکان پر 63 اے کا اطلاق نہیں ہوا۔ احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو اور سمیع الحسن گیلانی سے متعلق ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔ پی ٹی آئی منحرف ارکان میں مبین احمد، باسط بخاری،عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان ،رمیش کمار، عامر لیاقت، عاصم نذیر، نواب شیر وسیر اور افضل ڈھانڈلہ سے متعلق ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔
الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی مزید ریکارڈ دینے کے استدعا مسترد کر دی تھی۔ الیکشن کمیشن میں منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کیس میں پی ٹی آئی کی جانب سے مزید ریکارڈ جمع کرانے کی درخواست دی گئی تھی جس کی مخالفت منحرف اراکین نے کی تھی۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کروں گا اور الیکشن کمیشن فیصلے کی کاپی فراہم کرے۔ ہماری نظر میں یہ کیس متنازعہ ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ آج صبح پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے اپنے خلاف آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کے ریفرنسز کو خلاف قانون و آئین اور ناقابل سماعت قرار دے دیا تھا۔ منحرف ارکان نے اپنے جواب میں استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن پہلے ریفرنسز کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کرے کیونکہ یہ خلاف آئین اور ناقابل سماعت ہیں۔ جوابات میں عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، منحرف ارکان نے کہا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنسز آرٹیکل 63 اے پر پورا نہیں اترتے، اس لیے الیکشن کمیشن ریفرنسز کو خارج کرے۔