news-details

حکمران لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے، 31مئی سے پہلے اہم فیصلے آسکتے ہیں:شیخ رشید

اسلام آباد:(پير: 23 مئی 2022ع) سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکمران لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے۔ میرے سیاسی اندازوں کے مطابق 31 مئی سے پہلے اہم فیصلے آسکتے ہیں۔ ایساحل نکالا جائے گاکہ معاشی ،سیاسی اور انتظامی بحران سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔ سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکمران عمران خان کے لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے۔سیاسی اندازے کے مطابق 31مئی سے پہلے اہم فیصلے آسکتے ہیں۔ اہم فیصلوں کے لیے 2،4دن اوپر نیچے بھی ہوسکتےہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج کبھی اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلائے گی۔پاک فوج ملکی معیشت تباہ ہوتے نہیں دیکھے گی ۔ایسا حل نکالا جائے گاکہ معاشی ،سیاسی اور انتظامی بحران سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کررہی ہے۔حکمرانوں کی کوشش ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں پیٹرول ،گیس اور بجلی کا مسئلہ ان سے حل کروائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے جو سوچا ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ اپنے ہی جال میں پھنس گئے ہیں۔حکمرانوں نے جو کھڈا عمران خان کے لیے کھودا تھا اس میں خود گرگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں صرف ایک ایک ووٹ کی اکثریت ہے۔یہ لوگ تو آئے ہی اپنے کیسز ختم کرنے کےلیے تھے۔سپریم کورٹ نے نیب ،ایف آئی اے اوراےاین ایف میں کیسز کے خاتمے کی سازش ناکام بنادی۔ان کو عنقریب جیلوں کےمنہ دیکھنے ہوں گے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو چالیس دن پورے ہوگئے بلکہ یوں کہیں ان کاچالیسواں پورا ہوگیا ہے، آج حکومتی اتحادی کہیں گے کہ حکومت مدت پوری کرے گی، یہ تب بھی نہیں کرسکتے، جی کاجانا ٹھہر گیا ہے، مرکز میں اور پنجاب صوبہ میں صرف ایک ایک ووٹ کی اکثریت ہے، بلوچستان میں عدم اعتماد ہونے جارہی ہے۔ پنجاب میں 24 گھنٹوں میں 25 ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنرز کو تبدیل کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی یہ لوگ عمران خان کے اسلام آباد لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے، میرے سیاسی اندازوں کے مطابق 31 مئی سے پہلے اہم فیصلے آسکتے ہیں، دو چار دن اور نیچے بھی ہو سکتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ نےعظیم سوموٹو لے کر نیب، ایف آئی ے اور اے این ایف میں ان کے کیسز کے خاتموں کی سازش کو ناکام بنادیا ہے، یہ لوگ اپنے کیسز ختم کرنے آئے تھے، اب ان کو دوبارہ جیلوں کے منہ دیکھنے ہوں گے، یہ اپنے جال میں خود ہی پھنس گئے ہیں، جوکھڈا انہوں نے عمران خان کے لئے کھودا تھا اس میں خود ہی گر گئے ہیں۔