news-details

بغاوت کے مقدمے میں کیپٹن (ر) صفدر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد پر فرد جرم عائد

لاہور(آن لائین انڈس، 4 جون، 2022عہ) عدالت نے بغاوت کے مقدمے میں کیپٹن (ر) صفدر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد پر فرد جرم عائد کر دیا جس کے بعد سابق ڈپٹی مئیر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد ہر پیشی پر پیش ہوں گے جبکہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر اور وفاقی وزیر خرم دستگیر کو آئندہ خاصری سے استثناء دے دی ہے۔
لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ محمد اعظم خان کی عدالت میں وفاقی وزیر خرم دستگیر، کیپٹن (ر) صفدر اور لیگی ایم پی اے سمیت دیگر پہ بغاوت اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمات پر کیس کی سماعت ہوئی جس میں کیپٹن (ر) صفدر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد بٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے بغاوت کے مقدمے میں کیپٹن (ر) صفدر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد پر فرد جرم عائد کردیا، جبکہ عدالت نے شہادت اور استغاثہ کے گواہان کو 20 جون اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ملزمان کو 29 جون کو طلب کر لیا گیا ہے۔
دوران سماعت عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر اور وفاقی وزیر خرم دستگیر کو آئندہ خاصری سے استثناء دے دی، جب کہ حکم دیا کہ سابق ڈپٹی مئیر اور لیگی ایم پی اے عمران خالد ہر پیشی پر پیش ہوں گے۔
یاد رہے کہ 2020 میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، بغاوت کے مقدمے میں ن لیگ کے ایم پی اے عمران خالد بٹ کو بھی نامزد کیا گیا تھا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر نے جمعہ کو عمران خالد بٹ کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی تھی جس میں ریاستی اور انتظامی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔
دوسری طرف لاہور کی عدالت نے بھی انتشار انگریز تقاریر اور مریم نواز کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر کارسر میں مداخلت کے مقدمے میں مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد کردیا ہے، تاہم کیپٹن صفدر نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے 10 جون کو مقدمے کے گواہوں کو طلب کر لیا۔
اس کیس میں کیپٹن (ر) صفدر پر تھانہ اسلام پورہ میں انتشار انگریز تقاریر کا مقدمہ درج تھا