news-details

وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں مال سال 2023-2022عہ کے لیے بجٹ پیش کر دیا

اسلام آباد(آن لائین انڈس، 10 جون، 2022عہ) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مالی سال 2023-2022عہ کے لیے وفاق بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کے ریونیو 6 ہزار ارب روپے ہوں گے اور ریونیو میں صوبوں کا حصہ 3512 ارب روپے رہا، رواں مالی سال وفاق کا نیٹ ریونیو 3803 ارب روپے رہا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی بجیٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے پھر بھی سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے لہٰذا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، بجلی کی پیداوار ، ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنانے کیلئے 72 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 12 ارب روپے مہمند ڈیم کی جلد تکمیل کیلئے ادا کی جائے گی۔
مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر میں کہا کہ رواں مالی سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کے ریونیو 6 ہزار ارب روپے ہوں گے اور ریونیو میں صوبوں کا حصہ 3512 ارب روپے رہا، رواں مالی سال وفاق کا نیٹ ریونیو 3803 ارب روپے رہا ، رواں مالی سال وفاق کا نان ٹیکس ریونیو 1315 ارب روپے ہونے کی توقع ہے جبکہ رواں مالی سال وفاق کے کل اخراجات 9118 ارب روپے ہوں گے ، رواں مالی سال پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات 550 ارب روپے ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مالی سال 23-2022 کیلئے ملکی دفاع کیلئے 1523 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سول انتظامیہ کے اخراجات 550 ارب روپے ہوں گے، وفاقی بجٹ میں پنشن کی مد میں 530 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عوام کی سہولت کیلئے ٹارگیٹڈ سبسڈیز کی مد میں 699 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکےمالی سال 23-2022 کیلئے گرانٹ کی صورت میں 1242 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں بیت المال، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر محکموں کی گرانٹس شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ وفاقی بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 250 ارب روپے سے بڑھا کر 364 ارب روپے کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن پر اشیاء کی سبسڈی کیلئے 12 ارب روپے مختص کی گئی ہے۔ 5 ارب روپے کی اضافی رقم رمضان پیکج کیلئے مختص کی گئی ہے، اگلے مالی سال BISP کے تحت 90 لاکھ خاندانوں کو بے نظیر کفالت کیش ٹرانسفر پروگرام کی سہولت میسر ہوگی جس کیلئے 266 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے بجٹ میں 65 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، اس کے علاوہ 44 ارب روپے ایچ ای سی کے ترقیاتی اسکیموں کیلئے رکھے گئے ہیں، ملک بھر کے طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان قسطوں پر فراہم کیے جائیں گے۔
وزیرخزانہ کے مطابق مالی سال 23-2022 میں وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 502 ارب روپے ہے جن میں سے 3950 ارب روپے ڈیٹ سروسنگ پر خرچ ہوں گے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز کیلئے 800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکے وفاقی بجٹ میں فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق رواں مالی سال قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3144 ارب روپے خرچ ہوں گے، رواں مالی سال ڈیفنس پر 1450 ارب روپے، وفاقی حکومت کے اخراجات میں 530 ارب روپے، پنشن پر 525 ارب روپے اور سبسڈیز کی مد میں 1515 ارب روپے خرچ ہوئے، اگلے مالی سال ایف بی آر کے ریونیو کا تخمینہ 7004 ارب روپے ہے جس میں سے صوبوں کا حصہ 4100 ارب روپے ہوگا، وفاقی حکومت کے پاس نیٹ ریونیو 4904 ارب روپے ہوگا جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 2000 ارب روپے آمدن کا تخمینہ ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ 2018 کی فلم و کلچر پالیسی پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے فلم کو صنعت کا درجہ دیا گیا ہے اور ایک ارب روپے سالانہ کی لاگت سے بائنڈنگ فلم فنانس فنڈ قائم کیا جارہا ہےجبکہ فنکاروں کیلئے میڈیکل انشورنس پالیسی شروع کی جارہی ہے، فلم سازوں کو پانچ سال کا ٹیکس ہالی ڈے، نئے سنیما گھروں ، پروڈکشن ہاؤسز اور فلم میوزیمز کے قیام پر پانچ سال کا انکم ٹیکس اور دس سال کیلئے فلم اور ڈرامہ کی ایکسپورٹ پر ٹیکس ری بیٹ جبکہ سنیما اور پروڈیوسرز کی آمدن کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جارہا ہے۔
بجٹ تقرار میں وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند، داسو، نئی گاج ڈیم اور کمانڈ ایریا پروجیکٹس کیلئے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکے وفاقی بجٹ میں شاہراہوں اور بندرگاہوں کیلئے 202 ارب روپے رکھے ہیں۔
بجٹ پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 13 جون سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے