news-details

بااختیار افراد نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم کرکے اس سے فائدہ اٹھایا ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائین انڈس، 14 جون، 2022عہ) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ بااختیار افراد نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم کرکے اس سے فائدہ اٹھایا ہے، جس نے سرکاری کام سے باہر جانا ہو، اسے اجازت ہونی چاہیے، جو ملزم بھی بیرون ملک جانا چاہے تو اسے وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحقیقات میں حکومتی مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہوئی، جس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا ای سی ایل قوانین کے حوالے سے کابینہ نے منظوری دی؟۔ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں معاملہ زیرغور ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس نے سرکاری کام سے باہر جانا ہو، اسے اجازت ہونی چاہیے، جو ملزم بھی بیرون ملک جانا چاہے تو اسے وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، ملک میں موجودہ حالات اپنی نوعیت کے اور مختلف ہیں، حکومت بنانے والی اکثریتی جماعت اسمبلی سے جا چکی ہے، ملک اس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے، لہذا سسٹم چلنے دینے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یکطرفہ پارلیمان سے قانون سازی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے یہ کسی کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ہے نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرےایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل پر تھے ماضی میں بھی اسی انداز میں ای سی ایل سے نام نکالے جاتے رہے
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کا یہ جواب ہے کہ ماضی میں ہوتا رہا تو اب بھی ہوگا؟

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے،لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے، واضح بات کے بجائے ہمیشہ اِدھر اُدھر کی سنائی جاتی ہیں، ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اس سے فائدہ اٹھایا، قانونی عمل پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونے دیں گےکسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں، تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے۔

دوران سماعت سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی اس سلسلے میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، تاہم ہم ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لیں گےکابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا ہے۔