news-details
اسلام آباد

ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، ہمیں اس قوم کی حالت بہتر کرنی ہے: وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائین انڈس، 23 جون، 2022عہ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، ہمیں اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئےشہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومت کو ساڑھے تین سال عوام کا کوئی خیال نہیں آیا، ہمارا موقف تھا کہ ہم انتخابی اصلاحات کرکے الیکشنز کی طرف جائیں گے لیکن اب اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت 14 ماہ کی مدت پوری کریں، عمران خان نے نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں، پٹرول سستا کرنے کے لیے گزشتہ حکومت نے کوئی فنڈنگ نہیں کی، حکومت میں آنے کے بعد سے متعدد چینلنجز کا سامنا ہے، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ خدا اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنے کے اٹھ کھڑی ہو، اس قوم کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال رکھا ہے، ایک مثال ریکوڈک ہی ہے جس سے ہم اب تک استفاد نہیں کرسکے یہ قوم کا نہیں بلکہ قیادت کا قصور ہے اس معاملے کو غلط طریقے ہینڈل کیا گیا، ہم اگر فیصلہ کرلیں کہ تاریخ کا رخ موڑنا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی مدد کرے گا، ہم کب تک چین سے مانگتے رہیں گے، سعودی عرب ہمارا بھائی ہے لیکن وہ کب تک ہماری مدد کرے گا؟ چین اور سعودی عرب کہتے ہیں کہ ہم کب تک اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے؟

شہباز شریف نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی تیس روپے بڑھانے کا معاہدہ کیا، عمران خان کی حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دے کر خزانہ خالی کردیا اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا، پہلے ریاست ہے اور بعد میں سیاست ہے، اگر خدانخواستہ ریاست کو کچھ ہوا تو سیاست بھی نہیں رہے گی، گزشتہ حکومت نے قوم کا وقت اور وسائل برباد کیے، گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور ہمیں اشیا کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے تقریباً تمام شرائط طے ہوچکی ہیں اگر کوئی نئی شرط عائد نہیں ہوئی تو جلد معاہدہ ہوجائے گا لیکن آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں کیا راتوں رات مہنگائی آجائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں ہے، ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد ملے گی، لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کریں اور خواہشات کو قربان کردیں، ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں جس سے ملک خوشحال کی جانب گامزن، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے، تاریخ میں پہلی بار امیر افراد کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ہم صاحب ثروت افراد کی نیٹ انکم پر ٹیکس عائد کرنے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ جو بھی معاہدہ کیا جائے وہ تسلیم کرنا پڑتا ہے یا تو معاہدہ کیا ہی نہ جائے، آج آئی ایم ایف کہتا ہے کہ ہم آپ پر کیسے اعتبار کریں؟ گزشتہ حکومت نے ہم سے جو معاہدہ کیا اس پر عمل نہیں ہوا، میں قوم سے غلط بیانی نہیں کروں گا اور سچی بات کروں گا، قوم کو ہرگز دھوکا نہیں دوں گا اور یہ نہیں کہوں کہ ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے، اربوں ڈالر پاکستان لے آئیں گے اور نیا پاکستان بنادیں گے، ہم پرانا قائد اعظم والا پاکستان ہی بنائیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے چین کو بھی ناراض کیا، دوست ممالک کو ناراض کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ یہ ہے نیا پاکستان؟ آپ چین سے مدد لیں اور اس پر الزامات بھی عائد کریں۔