news-details
گوادر

منشیات کے عالمی دن کے حوالے سے گوادر میں ریلی، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) گوادر چیپٹر کے ممبران نے شرکت کی

گوادر(آن لائین انڈس، 28 جون، 2022عہ) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) گوادر چیپٹر کے ممبران نے اییٹڈ نارکوٹکس فورس کے تحت پاک فوج کے تعاون سے انسداد منشامت کے عالمی دن پر منشامت کے استعمال کی روک تھام،اس گھناؤنے دھندے کوروکنے کے اقدام اٹھانا اور منشا ت کے استعمال سے پداا ہونے والے جسمانی،نفساھتی،معاشی ومعاشرتی خطرات سے آگاہی دلانے کے لےد گوادر مںآ مرشین ڈرائوتں سے نکالی جانے والی آگاہی واک مںن شرکت کی ہے
آگاہی واک مںا شرکت کرنے والے آباد کے ممبران مںو عفان قرییت، شبرے اصغر،مرشد شبرت،حاجی عبدالغنی،ارشاد علی شاد،نصرآ احمد،بلال حسنی اورنعمان شامل تھے۔علاوہ ازیں آگاہی واک مںپ گوادر کی سول انتظامہے،گوادر کی سول سوسائٹی،اییٹا نارکوٹکس فورس، پاک فوج،پاک بحریہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ دور حاضر کاسب سے بڑا المہ منشا ت کا استعمال ہے،اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان مںد منشارت استعمال کرنے والوں کی تعداد 67 لاکھ ہے جو دناق کے کسی بھی ملک کےما بہت بڑی تعداد ہے۔پاکستان مںا 15 سے 64 سال کی عمر کے 8 لاکھ سے زائد افراد ہر وئن جسےد مہلک نشے کے عادی ہں ۔
مقررین نے کہا کہ منشا ت کا استعمال اور پھلا ؤ کسی جان لو ا وبا سے کم نہںے جو ایک صحت مند معاشرے کو کھوکھلا کرکے رکھ دیی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ منشاات کے استعمال کی روک تھام کےہتے ٹھوس اقدام اٹھانا ہی واحدحل ہے اور ٹھوس اقدام کی پہلی کڑی عوام کو منشاات کے استعمال سے پدلا ہونے والے جسمانی، نفسایتی،معاشی ومعاشرتی خطرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔آج کی اس آگاہی واک کامقصدمنشاعت کے استعمال کے منفی سماجی نتائج کی روک تھام،ضلع گوادر کے نوجوانوں کو منشایت سے دور رہ کر تعلما وتدریس پر توجہ دلوانا،منشاہت سے متعلق جرائم اور تشدد مںع کمی شامل ہںک۔
مقررین نے نوجوانوں کونہ صرف منشا ت کے مضمرات سے متعلق آگاہی دی بلکہ اس کے سدبات کےلما اٹھائے جانے والے اقدام کے بارے مںں بھی آگاہی فراہم کی۔شرکا نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے منشاات کے استعمال کے خلاف شعور و آگاہی بداار کرنے کے عزم کا اعادہ کا ۔ اس موقع پر مقامی آبادی نے آگاہی مہم کے انعقاد پر منتظمنا کی کوششوں کو سراہا جس کے باعث عوام بالخصوص نوجوانوں کو منشاآت کے منفی اثرات سے آگاہی دلوانے کے اقدام کےر گئے۔