news-details
دوحہ

امریکا اور طالبان کے وفد کے درمیان قطر کے دارالحکومت میں مزاکرات، فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

دوحہ(ٓٓآن لائین انڈس، 02 جولائی، 2022عہ) امریکا اور طالبان کے وفد کے درمیان قطر کے دارالحکومت میں امن معاہدے کی پیش رفت اور افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق ہونے والے مذاکرات اختتام پذیر ہوں گے جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان 3 ماہ کے تعطل کے بعد دوبارہ مذاکرات کا آغاز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا، امریکا کی جانب سے افغان امور کے نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ جب کہ طالبان کی نمائندگی وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے کی.

اس حوالے سے طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بیان جاری کیا کہ امریکی ٹریژری کے نمائندے بھی اجلاس میں شرکت تھے جن کے ساتھ منجمد افغان اثاثوں کی بحالی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا جبکے طالبان وفد میں شامل وزارت خزانہ اور افغان سینٹرل بینک کے حکام نے افغان اثاثوں کو بحال کرنے کے روڈ میپ کے حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کے حکام کو اپنی تجاویز دی۔

طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان مزید کہا کہ وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے بات چیت کے دوران نے مذکرات کی کامیابی کے لیے دباؤ کی حکمت عملی کے بجائے تعاون پر مبنی مثبت اقدامات پر زور دیا۔
طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امیر اللہ متقی نے امریکی حکام سے ملاقات میں ایک بار پھر اپنی حکومت کے اس عزم کی تجدید کی کہ کسی کو افغان سرزمین، ہمسایہ اور دیگر ممالک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، امریکی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا ایک مستحکم افغانستان کی خواہشں رکھتا ہے اور افغانستان میں کسی مسلح اپوزیشن کی حمایت کے امکان کو مسترد کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے مذاکرات کے بعد افغان اثاثوں کی بحالی سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم رواں ہفتے امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور طالبان حکام کے درمیان افغانستان کے مرکزی بینک کو منجمد رقوم تک رسائی کی اجازت دینے پر بات چیت جاری ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغان اثاثوں جن کی مالیت 7 ارب ڈالر بنتی ہے سے میں نصف افغان عوام اور نصف نائن الیون کے متاثرین کو دینے کا اعلان کیا تھا جسے طالبان حکومت نے مسترد کیا تھا۔