news-details
کراچی

زرمبادلہ کی طلب پوری کرنے کے لیے سونے کے ذخائر رہن رکھنے کے کوئی امکان نہیں ہیں: ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی(آن لائین انڈس، 24 جولائی، 2022عہ)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان عنایت حسین نے کہا کہ زرمبادلہ کی طلب پوری کرنے کے لیے سونے کے ذخائر رہن رکھنے کے امکان نہیں ہیں، پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تقریباً نو اعشاریہ تین ارب ڈالر ہیں۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان کے پاس موجود سونے کی قدر تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر ہے جو کہ ذخائر کے علاوہ ہے، ابھی اس قسم کی کوئی صورتِ حال نہیں ہے کہ سونے کو رہن رکھنا پڑے۔

عنایت حسین نے کہا کہ کسی بھی بینک یا آئل کمپنی سے حالیہ دنوں میں ایسی شکایت نہیں ملی کہ انہیں ایل سی (LC) کھولنے میں مشکل ہو رہی ہو، انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا بنیادی کام یہ ہے کہ فارن ایکسچینج مارکیٹ میں انتشار نہ ہو، پاکستان میں فارن ایکسچینج مارکیٹ پوری طرح فعال ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر کا مزید کہنا ہے کہ بیرونی زر مبادلہ کی سطح اِس وقت خطرناک نہیں ہے، دسمبر سے لے کر اب تک روپے کی قدر میں اٹھارہ فیصد کمی آئی ہے جس میں سے بارہ فیصد کمی کی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہے، روپے کی قدر میں کمی کی دوسری وجہ طلب اور رسد ہے، ڈالر کی رسد کم اور طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے روپے پر دباؤ تھا، ہماری توقعات یہ ہیں کہ درآمدات میں سست روی آئے گی جس سے طلب اور رسد کا فرق بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا۔