news-details

اپوزیشن جلسہ جلسہ کھیلے، سیلاب متاثرین کی مدد ترجیح ہے، سیاست بعد میں چلتی رہے گی،بلاول بھٹو

کراچی : (ھفتہ 27 اگست 2022) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، جہاں تک ممکن ہوا متاثرین کی مدد کریں گے۔ اپوزیشن نے اگرجلسہ جلسہ کھیلنا ہے تو ان کی مرضی ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، جہاں تک ممکن ہوا متاثرین کی مدد کریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین تحریک انصاف پر بھی تنقید کے نشترچلاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اگر جلسہ جلسہ کھیلنا چاہتی ہے تو یہ ان کی مرضی ہے، ہماری اولین ترجیح سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اس پیمانے پر قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مخالف حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں وہ کبھی اس چیز میں دلچسپی نہیں لیتے۔2020 میں بھی اس صوبے میں عوام متاثر ہوئے تھے، آج کی اپوزیشن اس وقت حکومتی جماعت تھی۔اس وقت بھی انہوں نے ہمارے سیلاب متاثرین کا ساتھ نہیں دیا تھا۔
انہوں نے کہاہے کہ آج وہ اپوزیشن میں ہیں، ان کے اپنے صوبے میں سیلاب ہے مگر وہ جلسے جلسے کھیل رہے ہیں۔یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے۔دنیا میں ایسی کوئی حکومت نہیں ہے جو اس طرح کی آفت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔لیکن جب ایسی صورتحال آجاتی ہے تو ہر کوئی چاہتا ہے کہ مدد کر سکے۔ انہوں نے کہاہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہوا ہے۔ صرف لاڑکانہ ضلع سے 18 سو خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ان سب کو کیمپس پہنچانا، کھانے پینے کی سہولیات سے طبی مدد فراہم کرنا ابتدائی چیلنج ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جون کے آخر سے چل رہا ہے، ریلیف اور ریسکیو ہماری پہلی ترجیح ہے۔آگے چل کر ہمیں تباہ ہوئے لوگوں کے گھر، سڑکیں، پل تعمیر کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم کام عوام کو ٹنٹس پہنچانا ہے۔صوبے سندھ کے پاس 90 ہزار ٹینٹس تھے جو ناکافی ہے۔صوبے سندھ کو کم سے کم 10 لاکھ ٹینٹس کی ضرورت ہے، جسے خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاہے کی کھانے کے مسائل کیلئے سب مل کر کوشش کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو راشن پہنچایا جا سکے۔2020 والی حکومت نے تو مدد نہیں کی، لیکن اب بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے مدد ملنے کا امکان ہے۔
دریں اثناء وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے ترک ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اس دوران بلاول بھٹو نے ترک وزیر خارجہ کو پاکستان میں غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ بلاول بھٹو نے فوری طور پر رضا کار بھیجنے پر ترک وزیر خارجہ سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور ترکیہ بحرانوں کے وقت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔