news-details

سیلابی ریلے مزید 26 انسانی جانیں نگل گئے، مجموعی تعداد 1290 ہوگئی، متاثرین امداد کے منتظر

اسلام آباد:(اتوار: 04 ستمبر 2022) سیلابی ریلے سب کچھ بہا کر لے گئے، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب میں ہرطرف تباہی کے مناظر نظر آنے لگے، ملک بھر میں سیلاب نے 12 بچوں سمیت مزید 26 انسانی جانیں نگل لیں۔ نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نے قیام کے پہلے روز ہی کام کا آغاز کرتے ہوئے سیلاب کی تباہ کاریوں کے تازہ اعداد وشمار جاری کردیئے ہیں۔ نیشنل فلڈ ریسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلابی ریلے 12 بچوں سمیت مزید 26 انسانی جانیں نگل گئے، جب کہ مال مویشی، گھروں، ریلوے لائنوں اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصانات بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 14 جون سے اب تک قدرتی آفت میں مرنے والوں کی تعداد1 ہزار290 تک جا پہنچی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 12588 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 570 مرد، 259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں۔
این ایف آر سی سی کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اب تک ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 شہری متاثرہوئے، سندھ میں سیلاب زدگان کی تعداد ایک کروڑ سے زائد، بلوچستان میں 91 لاکھ ، پنجاب میں 48 لاکھ اور خیبرپختونخوا میں 43 لاکھ سے زیادہ افراد کے گھر اور سامان قدرتی آفت سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ میں قومی شاہراہ این 55 میہر جوہی نہر سے خیرپور ناتھن شاہ تک ڈوبی ہونے کے باعث بند ہے۔
کے پی میں قومی شاہراہ این 95 بحرین اور لائیکوٹ کے درمیان بلاک، اور این 50 پر ساگو پل کو ملانے کیلئے دونوں جانب سے کام جاری ہے۔ بلوچستان میں کوئٹہ تافتان اور کوئٹہ سبی اور سبی سے حبیب کوٹ تک ریلوے ٹریک بند ہیں، جب کہ مختلف ٹیمیں ان علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کیلئے سروے کر رہی ہیں۔