احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کوسرنڈرکرنے کا موقع دے دیا، پاکستان واپسی پر گرفتار نہ کرنیکا حکم

news-details

اسلام آباد: (جمعہ: 23 ستمبر 2022ع) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری 7 اکتوبر تک معطل کردیئے۔ جمعہ کو احتساب عدالت نے پولیس کو لیگی رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ 7 اکتوبر تک معطل کردیئے۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت جج محمد بشیر نے کی، اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وکیل اسحاق ڈار نے عدالت سے استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائے۔ اسحاق ڈار ایئرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔
عدالت نے 5 سال بعد اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری معطل کئے اور کہا کہ انھیں وطن واپسی پر ائیرپورٹ سے عدالت آنے تک گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے عدالت نے باقاعدہ احکامات جاری کردئیے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ فی الحال اسحاق ڈار کے وارنٹ معطل کر رہے ہیں، اسحاق ڈار واپس آجائیں پھر وارنٹ مکمل منسوخ کرنے کو دیکھیں گے۔
دو روز قبل اسحاق ڈار نے وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست دائرکی تھی۔ ان کی یہ درخواست احتساب عدالت کےجج محمد بشیرکی عدالت میں دائرکی گئی۔ اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نیب اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری واپس لے،اسحاق ڈارسرنڈرکرنےکیلئے تیارہیں۔ وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ اسحاق ڈار کو پاکستان واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے۔