news-details

سینیر صحافی ایازامیر کے بیٹے شاہنواز کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد: (هفتہ: 24 ستمبر 2022ع) اسلام آباد کی عدالت نے سینیر صحافی ایاز امیر اور اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کرلی جب کہ ان کے بیٹے شاہنواز امیر کا 2 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سینیر صحافی ایاز امیر کے بیٹے ملزم شاہنواز امیر کو ہفتہ 24 ستمبر کو سول جج مبشر حسن چشتی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جج مبشر حسن چشتی نے سوال کیا کہ شاہنواز کون ہے؟ آپ کو کب گرفتار کیا گیا؟۔ ملزم شاہنواز نے عدالت کے روبرو جواب دیا کہ مجھے جمعہ 23 ستمبر کی صبح گرفتار کیا گیا۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم شاہنواز نے باہر سے بلوا کر اپنی اہلیہ کو بے دردی سے قتل کیا۔ جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ یہ قتل صرف الزام کی حد تک ہے۔ تفتیشی افسر نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملزم شاہنواز امیر کے فنگر پرنٹ کروانا ہیں۔ فنگر پرنٹس کے نمونے چاہیئے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فنگر پرنٹس تو نادرہ سے بھی لیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے فنگر پرنٹس لینے کی درخواست مسترد کردی۔
دوران سماعت پولیس کی جانب سے ملزم شاہنواز کے 10 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور کہا کہ ملزم سے برآمدگی کرنی ہے، ريمانڈ ديا جائے۔ جس پر جج نے شاہنواز کے وکیل سے سوال پوچھا کہ آپ کچھ بولنا چاہتے ہیں؟۔ ملزم شاہنواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ بلائند مرڈر ہے، پہلا ریمانڈ ہے، کوئی اعتراض نہیں۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے والدین کے وارںٹ گرفتاری کی درخواست دائر کرنے پر جج نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ کو کس لئے ملزم کے والدین کے ورانٹ گرفتاری چاہئیں؟۔
عدالت نے ملزم کے والدین کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی پوليس کی درخواست منظور کرلی، جب کہ ملزم شاہ نواز امیر کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرتے ہوئے ملزم کو پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔