news-details

ایون فیلڈ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کردیا

اسلام آباد : (جمعرات: 29 ستمبر2022) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کیخلاف مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی بریت کی اپیلوں پر سماعت کی۔ عدالت نے نیب پروسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا اصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود تھی اور عدالت میں جمع کرائی گئی۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ اصل ٹرسٹ ڈیڈ عدالت میں جمع نہیں کرائی گئی تھی، اصل چیزیں چھپائی ہی گئی تھیں۔
عدالت نے پھر استفسار کیا کہ کیا آپ نے نواز شریف اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ جس پر نیب پروسکیوٹر نے جواب دیا کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا، اب قانون بھی بدل چکا ہے،میں نیا قانون پڑھ دیتا ہوں۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ان ثبوتوں پر سول عدالت دعویٰ ڈگری نہیں کرتی سزا کیسے ہوسکتی ہے؟ مریم نواز تو پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں ان پر اثاثوں کا کیس نہیں بنتا، یہ کوئی الگ ٹیکس کا کیس تو ہو سکتا ہے آمدن سے زائد اثاثوں کا نہیں، نیب ایون فیلڈ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سردار مظفر نے کہامریم نواز، نواز شریف کی پراپرٹیز کی بے نامی مالک تھیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہابے نامی پر نہ جائیں اس میں پھر آپ خود پھنس جائیں گے۔لافرم بھی بنیفشل اونر شپ کی بات کررہی ہے۔کمپنی کی ملکیت ہونا الگ بات ہے اس میں ڈائریکٹر ہونا الگ بات ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا2006سے12کے درمیان پراپرٹیز ان کمپنیز ملکیت تھیں یا نہیں، یہ کیسے پتہ چلے۔ جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا آج کی تاریخ میں اس خط کی بنیاد پر مریم نواز ان پراپرٹیز کی بینیفشل اونر ہیں؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا ۔جی، آج بھی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کیسے مالک ہیں کوئی دستاویز دکھا دیں۔یہ بھی بینفشل اونر کی بات ہو رہی ہے قانونی مالک کی نہیں۔سردار مظفر نے کہا 2017 میں بی وی آئی ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق وہ اب بھی بینفشل اونر ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا ۔ملزمان کا ایڈمیشن بھی موجود ہو تو بھی پراسیکیوشن کو اپنا کیس ثابت کرنا ہوتا ہے ۔شریف فیملی کا موقف ہے کہ پراپرٹیز 2006 میں شریف فیملی نے خریدیں۔شریف فیملی کے تسلیم کرنے کے باوجود نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا یہ اگر روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہیں کہ پراپرٹیز ہماری ہیں پھر بھی پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے۔آپ کیس ثابت کرنے میں فیل ہوئے ہیں۔آپ نے اس کیس میں ایک شخص کو سزا دی ہے۔کیا ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر بھی سزا ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا کیپٹن (ر) صفدر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی گواہی پر سزا دی گئی۔مان لیتے ہیں کہ یہ جعلی دستاویز ہے لیکن ساری پارٹیز مان رہی ہیں،ہو سکتا ہے دستاویز غلط ہو، بعد میں تیار ہوا ہو۔گواہ نے یہ شہادت دینی ہوتی ہے کہ یہ دستخط اسی بندے کے ہیں۔کیپٹن (ر) صفدر کو بطور گواہ سزا ہو سکتی ہے؟
عدالت نے دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ایون فیلڈ ریفرنس سے بری کردیا۔ اور ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں ہیں۔