news-details

وزیراعظم شہباز شریف کی چینی صدر اور ہم منصب سے ملاقات، اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق

بیجنگ: (بدھ: 02 نومبر2022ء) وزیراعظم میاں شہباز شریف کی دورہ چین کے دوران چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات میں پاکستان اور چین نے کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی، سی پیک سمیت کثیر الجہتی تعاون بڑھانے اور اسٹریٹجک پارٹنر شپ مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں ایم ایل ون کو ابتدائی ہارویسٹ منصوبے کے طور پر شروع کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا جبکہ چینی صدرنے پاکستان کے لئے 50 کروڑ یوان کی اضافی امداد کا اعلان کیا ، ملاقات میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں مرکزی کمیٹی کا دوبارہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی، انہوں نے ملک میں ہولناک سیلاب سے ہونے والی تباہی کے تناظر میں پاکستان کی امداد، بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں چین کی گراں قدر مدد پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنمائوں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا جو ہر آزمائش میں پورا اتری ہے، دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے اپنے مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مضبوطی سے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، چین کے ساتھ پاکستان کے منفرد تاریخی تعلقات اور علاقائی امن واستحکام کے لیے دوطرفہ دوستی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات کا بھرپور اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی پاکستان میں سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے رکھتی ہے اور یہ بین الریاستی تعلقات کا ایک نمونہ ہے۔
دونوں رہنمائوں نے بین الاقوامی ماحول میں تیزی سے تبدیلی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس نے ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی چیلنجوں کو بڑھا دیا ہے، انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے عصری چیلنجوں کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق ریاستوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر شی جن پنگ نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال سمیت خطے سے متعلق اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی سلامتی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا، انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سی پیک کی افغانستان تک توسیع سے علاقائی رابطوں کے اقدامات کو تقویت ملے گی، وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی پرتپاک دعوت بھی دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔
بعدازاں وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی کیچیانگ کے ساتھ ملاقات کی، ملاقات کے دوران سی پیک منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور وسعت دینے پر دونوں رہنماؤں کا اتفاق ہوا۔ ملاقات کے بعد چین اور پاکستان کے مابین معاہدوں اور معاہدے پر دستخط بھی کے گئے، گریٹ ہال آف پیپل میں وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔