news-details

لانگ مارچ کا چھٹا دن: میرے دور میں خفیہ ہاتھ نے مجرموں اور ڈاکوؤں کو سزا نہیں ہونےدی:عمران خان

گوجرانوالہ: (بدھ: 02 نومبر2022ء) سابق وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ میں نے ساڑھے 3 سال میں پوری کوشش کی کہ ملک کے بڑے بڑے مجرم اور ڈاکوؤں کو سزا دلوانے کی پوری کوشش کی لیکن خفیہ ہاتھ نے انہیں سزا ہونے نہیں دی۔ لانگ مارچ سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں کال دوں تو ہر شخص ملک کی حقیقی آزادی کی جنگ میں جہاد کے لئے میرے پاس پہنچے۔
عمران خان نے کہا کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہ ہو تو معاشرے میں خوشحالی آتی،م انصاف کا مطلب ہر شہری کے لئے ایک قانون ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں انصاف نہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں انصاف نہیں، چھوٹا چور جیل میں ہوتا ہے اور بڑا ڈاکو جوتے پالش کرکے آج وزیراعظم بن گیا ہے، شہباز شریف کو 16 ارب روپے مقدمے میں سزا ہونی تھی، شہباز شریف کے کیسز ختم کروائے گئے، شہباز شریف کیسز میں 4 گواہان تھے لیکن 2ماہ میں شہباز شریف کے خلاف گواہان دل کے دورے کے باعث انتقال کرگئے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میں نے ساڑھے 3 سال میں پوری کوشش کی کہ ملک کے بڑے بڑے مجرم اور ڈاکوؤں کو سزا دلوانے کی پوری کوشش کی لیکن خفیہ ہاتھ نے انہیں سزا ہونے نہیں دی، کبھی بینچ ٹوٹ جاتا تو کبھی کسی کمر میں درد ہوجاتا تھا اور کیس مزید طویل ہوجاتا ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میرے دور اقتدار میں نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں تھا، نیب کو کنٹرول کرنے والوں نے چوروں کو بچایا، جو آج ہم پر مسلط ہیں، اور جب سے یہ آئے ہیں مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے سوال پوچھنے ہیں، مجرموں کو کس نے اقتدار پر بٹھایا؟ مجرموں کو اقتدار میں لانے والے کون ہیں؟ ان کے کیسز جلدی جلدی ختم ہوئے، مریم نواز، شہباز شریف، آصف زرداری اور حمزہ شہباز کے خلاف کیسز ختم کیے گئے، مریم کے پاپا (نواز شریف) واپس آنے کی تیاری کررہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم بھیڑ بکریاں یا گائیں بھینسیں نہیں کہ جہاں لاٹھی دکھائیی اس جانب چل پڑے، کل کہتے تھے کہ یہ چور ہیں اورآج کہتے ہیں کہ این آر او دے دیا اور پاک ہوگئے ہیں، پرویز مشرف نے ان کو مجرم کہا تھا اور پھراین آراو دیا، میری نظرمیں کسی کی غلامی کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ آدمی مر جائے۔۔