news-details

عمران خان پر حملے کا مقدمہ 15 گھنٹے بعد تاحال درج نہ ہوسکا

لاہور: (جمعہ: 04 نومبر2022ء) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر وزیرآباد میں فائرنگ کا مقدمہ ابھی تک بھی درج نہیں ہوسکا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او گجرات غضنفر علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ روز اللہ والا چوک پر ہونے والی فائرنگ اور عمران خان پر حملے کا مقدمہ ابھی درج نہیں ہوا، جیسے ہی مدعی کی جانب سے درخواست دائر ہوگی تو مقدمہ درج ہو جائے گا۔
ڈی پی او گجرات نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم کے مطابق اس واقعہ پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے، اب سارے واقعہ کی سی ٹی ڈی تفتیش کرے گی، اور جیسے ہی حکومتی سطح پر مقدمے کے اندراج کا فیصلہ کیا جائے گا تو مقدمہ درج کر لیا جائےگا۔
غضنفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی لانگ مارچ کی حفاظت کے لئے جگہ جگہ پولیس اہلکار اور ایلیٹ فورس کے جوان تعینات تھے، یہی وجہ ہے کہ اہلکاروں نے فوری رسپانس کرتے ہوئے واقعے کے ملزم کو گرفتارکیا، حملہ آور کی گرفتاری کے دوران بہت سے پی ٹی آئی کارکن مشتعل ہوکر ملزم پر حملہ آور ہوگئے تھے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ گرفتار حملہ آور کے علاوہ دوسرا اسلحہ کہاں سے استعمال ہوا، مختلف فوٹیجز کا مشاہدہ کیا جائے گا، مرکزی ملزم تو گرفتار کا چکا ہے مگر ان کے اہل خانہ سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ غضنفرعلی شاہ نے مزید کہا کہ یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملزم کے کس کس سے رابطے تھے، ملزم کے موبائل کا فرانزک کیا جائے گا اور اس کی لوکیشن بھی چیک کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہروز وزیرآباد کے اللہ والا چوک پر چئیرمین تحریک انصاف پر اس وقت گولیاں چلائی گئیں جب ان کا قافلہ استقبالیہ کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حملے میں ایک کارکن جاں بحق اور عمران خان، سینیٹر فیصل جاوید اوراحمد چٹھہ سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے، جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ حملے کے بعد کنٹینر پر کھڑے گارڈ نے بھی گولی چلائی جس کے بعد بھگدڑ مچی تھی، اور 15 افراد زخمی ہوگئے۔