news-details

پی ٹی آئی احتجاج: کنٹینر لگانے کے بجائے کوئی اور طریقہ کیوں استعمال نہیں کیاجاتا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا

اسلام آباد: (پير: 14 نومبر2022ء) پی ٹی آئی احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تاجروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی۔
وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شبیر خٹک، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور درخواست گزاروں کی جانب سے سردار عمر اسلم ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک احتجاج کیے جارہے ہیں، آزادی مارچ دھرنا کا اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں۔
درخواست میں استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، حکومت کو سڑکیں خصوصاً موٹروے پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی جائے، اور پی ٹی آئی کو پابند کیا جائے دھرنا اور جلسہ کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استفسار کیا کہ موٹروے وفاقی حکومت کا معاملہ ہے، وہ اسے کیوں نہیں کھلواتی۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے، اس لیے موٹر وے بند ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں، اچھی سی اینٹی رائٹ فورس کیوں نہیں بناتے، کنٹینر کیوں لگاتے ہیں، کنٹینر لگانے کے بجائے کوئی اور طریقہ کیوں استعمال نہیں کرتے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد دھرنے اور راستوں کی بندش سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے آئی جی کو طلب کرتے ہوئے سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی۔