news-details

لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے،ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عمل نہ ہو:چیف جسٹس

اسلام آباد: (جمعرات: 17 نومبر2022ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے،ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عمل نہ ہو۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے عمران خان کا لانگ مارچ روکنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا ہے؟ انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے، سپریم کورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں انتظامیہ سے پوچھ کر بتانے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزار کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ 2 ہفتے سے عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہے، فواد چودھری کے مطابق جمعہ، ہفتے کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا، لانگ مارچ سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں، لانگ مارچ پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟، جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ لانگ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟، یہ ایگزیکٹو کا معاملہ ہے، ان ہی سے رجوع کریں، غیر معمولی حالات ہی میں عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے، جب انتظامیہ کے پاس ایسی صورتحال کنٹرول کرنے کے وسیع اختیارات ہیں تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟۔
کامران مرتضیٰ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بات اب بہت آگے جا چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہےِ، کیا آپ نے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے؟ ۔ لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے، لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے، اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کے لیے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، آپ نے اپنی درخواست میں ایک آڈیو کا ذکر کیا ہے، اس آڈیو میں ہتھیار لانے کا ذکر ہے۔ آڈیو سچ ہے یا غلط لیکن اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا 25 مئی کے لانگ مارچ کے لوگوں کے پاس اسلحہ تھا؟، احتجاج کا حق لامحدود نہیں، آئینی حدود سے مشروط ہے، آپ کہہ رہے ہیں لانگ مارچ ابھی پنجاب کی حدود میں ہے، کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟، اگر صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہو جائے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟، آپ ایک سینیٹر ہیں، پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔ کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں عدالت آیا ہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہو گی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دئیے کہ توہین عدالت کا معاملہ لارجر بینچ میں زیر التوا ہے، جہاں فریقین نے یقین دہانی کی خلاف ورزی پر جواب دینا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ الگ سے لانگ مارچ کے معاملے میں مداخلت کرے؟۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کا معاملہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کے 25 مئی کے جلسے کے لیے ایچ نائن گراؤنڈ کے لیے درخواست دی گئی تھی، انتظامیہ نے ایچ نائن گراؤنڈ دینے سے انکار کیا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کی، ایچ نائن کا گراؤنڈ مختص ہونے کے باوجود ہجوم ڈی چوک چلا آیا، چیف جسٹس نے کامران مرتضیٰ سے سوال کیا کہ کیا آپ اس بات سے خائف ہیں کہ 25 مئی والا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق تو ایگزیکٹو کے اختیارات تو 27 کلومیٹر تک محدود ہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہو گی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی، کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ درخواست میں ماضی کی آئینی خلاف ورزیوں کا حوالہ بھی موجود ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا مؤقف ہو، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کے لیے معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، عدالتی حکم عملدرآمد کے لیے ہوتے ہیں۔
بعدازاں وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جو جے یو آئی کے ساتھ رویہ تھا وہی رویہ چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت احتجاج کو کسی بھی جگہ روک سکتی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریاست بے یارو مدد گار ہے کچھ نہیں کر سکتی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 ہزار لوگ آجائیں تو عملی طور پر روکنا مشکل ہو جاتا ہے، کسی بھی خوں ریزی کو روکنا چاہتے ہیں، آج باجوڑ دھماکے میں ہمارے لوگ شہید ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی صورتحال سے ہر شہری متاثر ہوتا ہے، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس پر عمل نہ ہو، وفاقی حکومت نے 149 کا مراسلہ بھی لکھا ہے، اس مراسلے کو بھی درخواست کا حصہ بنا لیں۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون سپریم کورٹ میں گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے انتظامیہ نے کیا کیا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کے لیے پی ٹی آئی کا خط موصول ہوا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے تاریخ، وقت اور جگہ کے متعلق پوچھا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، وزیرآباد واقعے سے پہلے پی ٹی آئی نے خوں ریزی کی باتیں کیں، وزیرآباد واقعے کے بعد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، اسلام آباد میں جلسے کی اجازت پر کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر موثر ہونے کی بنا پر سینیٹر کامران مرتضیٰ کی لانگ مارچ کے خلاف درخواست نمٹا دی۔