news-details

کراچی میں کار سوار کی فائرنگ ، پولیس اہلکار شہید، ملزم کی شناخت، مقدمہ درج

کراچی: (منگل: 22 نومبر2022) کراچی میں کار سوار کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا، کار سوار مبینہ طور پر ایک لڑکی کو اغواء کر کے لے جا رہا تھا، پولیس اہلکاروں کے روکنے پر واقعہ پیش آیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ نے کہا ہے ملزم گاڑی میں ایک لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے لے جارہا تھا۔
شاہین فورس کے اہلکاروں نے گاڑی کو روکا تو پوچھ گچھ کے دوران لڑکی بھاگ گئی، گاڑی میں بیٹھے پولیس اہلکار اور ملزم کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تو ملزم کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا، کار سوار لاش چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ سید اسد رضا نے کہا ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری طرف واقعے سے چند منٹ قبل کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی جس میں بلیک کلر کی ٹرینٹ گاڑی کو گزرتے دیکھا جا سکتا ہے، گاڑی کے گزرتے ہی موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار بھی پیچھے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ادھر شہید پولیس اہلکار عبدالرحمان کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگیا ہے، ہسپتال ذرائع کے مطابق اہلکار کو گولی سر پر لگی، نائن ایم ایم پستول استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب کلفٹن تھانے میں پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی، قتل اور دیگردفعات شامل ہیں، ایف آئی آر میں جناح ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی عبدالرحمان کے سر پر بائیں جانب سے کنپٹی پر گولی لگی، شاہین فورس کے اہلکار امین الحق نے واقعے سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتول اہلکار عبدالرحمان کو کنپٹی پر گولی لگی جس کا سکہ سر میں پھنسا، اہلکار کے ساتھی کانسٹیبل کا تفصیلی بیان بھی مقدمے کے متن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شاہین فورس کے دو جوانوں کی ڈیوٹی موٹر سائیکل گشت پر تھانہ درخشاں کی حدود میں تھی، دونوں اہل کار جب خیابان شمشیر پر پہنچے تو ایک گاڑی گزری، جس سے خاتون کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں، خاتون کی آواز سن کر مقتول اہلکار نے گاڑی کا تعاقب کیا جسے عبداللہ شاہ غازی بابا کے مزار کے قریب روکا گیا۔
متن کے مطابق گاڑی رکنے پر کانسٹیبل اگلی سیٹ پر جا بیٹھا اور خاتون پچھلی سیٹ سے اتر کر بھاگی، گاڑی سوار نے گاڑی کچھ فاصلے پر لے جا کر روکی جہاں مقتول اہل کار اور ملزم میں تلخ کلامی ہوئی، تلخ کلامی کے بعد گاڑی سوار نے پولیس اہلکار کو گولی مار دی۔ اس دوران مقتول اہلکار کی جانب سے بھی ایک فائر کیا گیا تھا تاہم ملزم بچ گیا۔ پولیس حکام کے مطابق اہلکار کو قتل کرنے والے ملزم کی شناخت ہوگئی، ملزم سابق ڈپٹی کمشنرنثار احمد کا بیٹا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ڈیفنس فیز5 میں ملزم کے گھر چھاپہ مارا جس میں ملزم کے والد نثار احمد نے بتایا کہ وہ سابق ڈپٹی کمشنرہیںِ اور معذوری کی وجہ سے ویل چیئر پر ہے، ملزم واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگیا، ملزم کی پاسپورٹ کی کاپی بھی برآمد ہوئی ہے، ملزم کا ایک بھائی فیصل آباد میں مقیم ہے۔