news-details

فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے لیے ایک دو دن میں ہیجانی کیفیت ختم ہوجائے گی،قانون وضابطہ کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا: خواجہ آصف

اسلام آباد: (بدھ : 23 نومبر2022) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فوج کے سربراہ کی تعیناتی ہے اس لیے قانون وضابطہ کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کسی قسم کی لوز ڈلیوریز افورڈ نہیں کی جاسکتیں، آج کل میں سمری کو حتمی شکل دیدی جائے گی، اہم معاملہ کابینہ میں زیر غور آئے گا اس کاعلم نہیں۔
خواجہ آصف نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہم تقرریوں کیلئے قانون و ضابطہ مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، میڈیا کو سیاسی دھڑے بندیوں کی نمائندگی نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں،اتحادیوں کو اعتماد میں لیاجائے گا ،ہیجائی کیفیت کاخاتمہ ضرور ہوگا، امید ہے نوازشریف رواں سال کے آخر تک پاکستان آ جائیں گے.
صحافی نے سوال کیا کہ آرٹیکل 243 میں تو اعتماد کا نہیں لکھا؟ اس پر وزیر دفاع نے کہا کہ مجھے اتنے آرٹیکل کا نہیں معلوم، میں قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقرری کو عوامی مباحثے کا حصہ نہیں بننا چاہیے، پچھلے چند ماہ سے ہیجانی کیفیت ہے وہ ایک دو دن میں ختم ہوجائے گی۔
صحافی نے سوال کیا کہ سینئر موسٹ ہوں گے یا کسی اور کی تقرری کی جارہی ہے؟ وزیر دفاع نے کہا کہ یہ مجھے تو نہیں معلوم کسی اورسے پوچھ لیں۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس طرح کی چیزوں پر صدر یا وزیراعظم کو ملک و قوم کے بہتر مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں، اس میں سیاست سے قطع نظر قانون، آئین اور طن عزیز کے مفادات کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں۔