عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی غزہ پروحشیانہ بمباری ، دوروز میں 300 سے زائد فلسطینی شہید

news-details

غزہ : (اتوار:  03 دسمبر2023ء) غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ دو روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ غزہ کی رہائشی عمارتیں جارحیت کا نشانہ بن گئیں ،بمباری سے غزہ شہر کو پانی پہنچانے والی مین سپلائی لائن بھی متاثرہوئی جبکہ صیہونی فورسز نے غزہ میں 2 دن کےاندر 400 سے زائد مقامات کو ٹارگٹ کیا۔

خان یونس، جبالیہ کیمپ اور النصر اسپتال کے اطرا ف میں بھی شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں دو روز میں 300 سے زائد فلسطینی شہید جبکہ 650 زخمی ہوگئے ۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ مقامی ذرائع کے مطابق جنگی طیاروں نے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں 2 گھروں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 13 افراد شہید ہوگئے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ رفح میں ایک مکان پر اسرائیلی فضائی حملے میں 3 فلسطینی شہید ہوئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 15 ہزار 207 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اب تک زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے، اسرائیلی حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد میں 70 فیصد تعداد صرف بچوں اور خواتین کی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کر 130 طبی اداروں کو نشانہ بنایا جس سے 20 ہسپتال سروس سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ غزہ میں طبی عملے کے 280 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں محصور متاثرین کیلئے رفاح کراسنگ سے عالمی انسانی امداد کی ترسیل پر ایک روز کی بندش کے بعد عالمی دباؤ کے بعد امدادی سامان کے 50 ٹرک غزہ میں داخل ہو گئے۔  غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں ڈیڈ لاک آ گیا ہے، اسرائیل نے مذاکرات میں کسی قسم کی پیشرفت نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دوحہ میں موساد کی مذاکراتی ٹیم کو اسرائیل واپس آنے کا حکم دیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہونے اور وزیر اعظم  نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے دوحہ میں اپنی ٹیم کو اسرائیل واپس آنے کا حکم دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حماس نے اپنے حصے کے معاہدے کو پورا نہیں کیا، جس میں تمام بچوں اور خواتین کی رہائی کی فہرست حماس کو بھیجی گئی تھی اور حماس نے ان کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ جواب میں حماس نے اسرائیلی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام خواتین اور بچوں کو رہا کردیا گیا ہے ، باقی یرغمالی اسرائیلی فوجی ہیں یا پھر فوج کیلئے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔