اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہم نےختم کی،میں امپورٹڈ نہیں مقامی وزیراعظم تھا: نواز شریف

news-details

ننکانہ صاحب: (بدھ:24 جنوری 2024ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں کوئی امپورٹڈ وزیراعظم نہیں تھا مقامی وزیراعظم تھا اور وہ ناکامی وزیراعظم تھا، ننکانہ صاحب کو ماڈل سٹی بنائیں گے میں وہ وزیراعظم نہیں جو وعدہ کرکے بھول جائے اور یوٹرن پر یوٹرن لے۔ ننکانہ صاحب میں ن لیگ کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج موٹر وے سکھر سے یہاں تک پہنچ چکی ہوتی مگر ملک دشمنوں نے موقع نہیں دیا اور ہماری حکومت کا سازش کے ذریعے خاتمہ کردیا، لوگ سوچ جواب دیں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کس نے ختم کی؟

ان کا کہنا تھا کہ کس کے دور میں چینی پچاس روپے کلو تھی؟ سبزیاں، دالیں، آٹا اور گیس کس کے دور میں سستے تھے؟ ن لیگ کے دور میں، گوادر ایئرپورٹ، بندرگاہ، کراچی میں امن، ملک میں موٹرویز کا جال، گرین، ریڈ اورنج لائن بسیں اور ٹرینیں چلانے کے جرم میں ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنادی گئیں، مجھ سے کیا دشمنی تھی؟ یہی دشمنی تھی کام کرنا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب نواز شریف چلا گیا تو روٹی چار روپے سے بیس روپے پر آگئی، چینی پچاس سے ڈیڑھ سو پر آگئی، ڈالر 104 سے 275 روپے پر آگیا، یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ میں کوئی امپورٹڈ وزیراعظم نہیں تھا مقامی وزیراعظم تھا اور وہ ناکامی وزیراعظم تھا۔

اس موقع پر انہوں نے ننکانہ صاحب کے عوام کو اسپتال، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانیاں کرائیں اور کہا کہ یہاں اسپتال اور سڑکیں بنائیں گے، یہاں گرلز اینڈ بوائز کے لیے ڈگری کالج بنائیں گے اور سید والا کو ماڈل سٹی کا درجہ دیا جائےگا، بچوں کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم بناکردیں گے، اس شہر کو ماڈل سٹی بناکر چھوڑیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ یہ میرا ننکانہ صاحب کے عوام سے وعدہ رہا، میں وہ وزیراعظم نہیں جو وعدہ کرکے بھول جائے اور یوٹرن پر یوٹرن لے، دھوکے پر دھوکا دے اور جھوٹ پر جھوٹ بولے یہ ہمارا شیوہ نہیں۔