پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا مشکل ہے،ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے:عمران خان

news-details

راولپنڈی: (جمعرات:25 جنوری 2024ء) بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ حالات اب یہ بن چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا ان کے لیے مشکل ہے ہم کسی صورت میں بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے۔ کمرہ عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے  سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ یہ اوپن ٹرائل نہیں ہے، میڈیا کے دوستوں کو پیچھے بٹھا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے کہتا ہوں کہ سارا کنٹرول ان کے پاس ہے۔ بات اس سے کرنی چاہیے جس کے پاس پاور بھی ہو ۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ صاف شفاف انتخابات کروائیں ۔ عوام جس کو چاہیں اس کو لانا چاہیے۔ انجینئرنگ نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا، ہمارے لوگوں کو اب بھی پکڑا جارہا ہے ۔ پی ٹی آئی میدان میں موجود ہی نہیں تو سروے کیسے کیا جارہا ہے ۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حالات اب یہ بن چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ بائے الیکشن میں بھی اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن نے ان کی مدد کی تھی ۔ ساری پارٹیز ایک ہو چکی ہیں پھر بھی پی ٹی آئی کو کنٹرول کرنا مشکل ہے ۔ ہماری کارنر میٹنگ ہوتی ہے تو پولیس چھاپے مارنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اتوار کو چھپے ہوئے لوگ باہر آئیں اور اپنی کمپین شروع کریں ۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 9 مئی کا الزام ہم پر لگایا گیا لیکن ہم نے تو کوئی قانون نہیں توڑا ۔ جب مجھے گولیاں لگیں تب بھی کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا ۔ 2018 میں بھی بتایا جائے کہ کس نے الیکشن سے روکا تھا ۔ ہم کسی صورت بلاول بھٹو زرداری کی مدد نہیں کریں گے ۔ وہ مدد مانگ رہا ہے تو  اُن سے مانگے جن سے مل کر 16 ماہ حکومت کی ۔ یہ آج ایک دوسرے کے مخالف ہو چکے ہیں لیکن یہ اندر سے ایک ہی ہیں۔

قبل ازیں 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت کے دوران جج سے مکالمہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ سارا ڈراما 8 فروری کے لیے کیا جارہا ہے۔ اگر یہ ڈراما کرنا ہے تو 8 فروری کے بعد کر لیں۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ میں نواز شریف اور آصف زرداری کو 13 فروری کی تاریخ کی گئی۔ میں روز سنتا ہوں کہ ایک کے بعد ایک کیس بنایا جارہا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے کیسز بھی روز رکھیں تا کہ کام جلدی مکمل ہو۔ 8 سال پرانا کیس 13 فروری کو رکھا گیا جب کہ 4 سال پرانا کیس روز رکھا جاتا ہے۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی ہمارے گواہان پیش ہونے ہیں ان پر جرح ہونی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے جو 300 کروڑ کا چھکا مارا وہ گراونڈ سے باہر گیا۔