تشدد کا نشانہ بننے والی گھریلو ملازمہ رضوانہ ایک بار پھر ہسپتال میں داخل

news-details

اسلام آباد: (منگل:20 فروری  2024ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی سرگودھا کی رضوانہ کو دوبارہ لاہور جنرل ہسپتال (ایل جی ایچ) میں داخل کرادیا گیا جہاں اس کے بازووں کی الائنمنٹ کے علاوہ چہرے اور سر کے زخموں کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔

جنرل ہسپتال لاہور کے پرنسپل پروفیسر فرید الظفرکا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کل رضوانہ کا طبی معائنہ کرے گا، معائنے کے دوران رضوانہ کے بازووں کی الائنمنٹ چیک کی جائے گی، چہرے اور سر کے زخموں کو بھی دیکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ رضوانہ کو بازووں کی سرجری کے لیے ہپستال میں داخل کیا جاسکتا ہے،کل بورڈ بیٹھے گا تو فیصلہ کرے گا کہ ابھی داخل کرنا ہے یا نہیں۔

رضوانہ کو گزشتہ سال جولائی میں اس وقت ہسپتال لایا گیا تھا جب اسلام آباد کے ایک سول جج اور اس کی اہلیہ سمیت ان کو اپنے گھر میں ملازمت پر رکھنے والے دیگر افراد پر نوجوان لڑکی کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ رضوانہ کو جب لاہور جنرل ہسپتال لایا گیا تھا تو اس کی حالت تشویشناک تھی اور اس کے اندرونی اعضا متاثر تھے، علاج کے دوران بچی کی آکسیجن کی سطح غیر مستحکم رہی اور بعض اوقات اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹروں اور نرسوں نے 120 دن تک رضوانہ کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے پیشہ ورانہ فرائض سر انجام دیے تھے جس کے نتیجے میں وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔