اختیارات کا غلط استعمال: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیخلاف نوری آباد پاور پلانٹ کیس کی سماعت 18 اپریل تک ملتوی

news-details

اسلام آباد: (پير:04 مارچ 2024ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف نوری آباد پاور پلانٹ کرپشن ریفرنس کی سماعت 18 اپریل تک ملتوی کردی۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے، وزیر اعلی سندھ کی جانب سے بیرسٹر عمیر مجید ملک جبکہ نیب پراسیکیوٹر عثمان مسعود پیش ہوئے۔

عدالت کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی حاضری لگائی گئی۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 اپریل تک ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ اس کیس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ پر اختیارات کا غلط استعمال کرنے اور فزیبلٹی اسٹڈیز کے بغیر منصوبوں کے ٹھیکے دینے کا الزام ہے جس سے مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو 8 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

یہ ریفرنس جعلی اکاؤنٹس کیس کا حصہ ہے جس میں وزیر اعلیٰ سندھ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوری آباد پاور پلانٹ کے لیے فنڈز جاری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ نوری آباد پاور پلانٹ کا منصوبہ 2014 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 13 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا جس میں سندھ حکومت کے 49 فیصد شیئرز ہیں اور ایک نجی کمپنی کے پاس بقیہ 51 فیصد شیئرز ہیں۔