لوڈ شیڈنگ ان فیڈرز پر کی گئی، جہاں نقصانات ہورہے ہیں، روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا:اویس لغاری

news-details

اسلام آباد : (جمعرات: 30 مئی 2024ء) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا ۔ اسلام آباد میں علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان بھر میں گزشتہ روز یعنی 29 مئی کو بجلی کی 25 ہزار 820 میگا واٹ کی مانگ تھی جس میں 21 ہزار 588 میگا واٹ ہم نے اپنے سسٹم کے اندر سے پیدا کرکے سپلائی کی، جب کہ 4 ہزار 232 میگا واٹ سپلائی نہیں کی گئی اور 4 ہزار 232 میگا واٹ کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوڈ شیڈنگ صرف ان فیڈرز پر کی گئی، جہاں نقصانات ہورہے ہیں، 20 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک جہاں جہاں ہمارے نقصانات ہورہے ہیں، 4 ہزار 232 میگا واٹ بجلی وہاں فراہم نہیں کی گئی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ  جہاں 20 فیصد سے کم نقصانات ہیں، بدقسمتی سے ان فیڈرز پر بھی کچھ گھنٹے بجلی بند رہی، مثال کے طور پر لیسکو میں ایک ہزار 978 ایسے فیڈرز ہیں جہاں نقصانات کم ہیں، لیکن 188 فیڈرز پر بھی لوڈ شیڈنگ ہوئی جو قابل قبول نہیں ہے۔ وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ بجلی ان علاقوں کو فراہم کرنا شروع کردیں تو نقصان اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ پاکستانی معیشت مزید تباہ ہوجائے گی، جب تک ہماری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنے رخ کا تعین نہیں کرتیں اور صوبائی حکومتوں کی مدد سے ان نقصانات کا ازالہ نہیں کرتی، تب تک یہ لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مزید اقدامات کررہے ہیں، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہرممکن اقدامات یقینی بنارہے ہیں، روشن پاکستان پروگرام سے توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا، صوبائی حکومتوں کی مدد سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے صوبوں کے ساتھ رابطے کیے، اور انہیں بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام میں مثال قائم کریں، میں آپ کو اپنے علاقے کی مثال دیتا ہوں ڈیر غازی خان میں ایک مقام پر 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے بجلی آتی ہے، میرے لیے بہت آسان ہے کہ وہاں مکمل بجلی فراہم کروں لیکن ہم نے سیاست کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔