سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کا  تیز ترین سولر پینل متعارف

news-details

لندن: (منگل: 25 جون 2024ء)  رہائشی سائز کے شمسی پینل نے سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کا تیز ترین سولر پینل متعارف کرا دیا۔ یہ ریکارڈ سولر پینل کے موجودہ موڈیولز میں 7 فی صد سے زیادہ بہتری لا کر بنایا گیا ہے۔

برطانیہ کی ایک اسٹاٹ اپ کمپنی آکسفورڈ پی وی نے جدید جنریشن کے ٹینڈم سولر سیل متعارف کرائے ہیں جو پیروسکائٹ نامی ’معجزاتی مواد‘ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ سیلیکون سے بنے روایتی سولر پینلز کی کارکردگی کو بہتر کیا جا سکے۔

پیرووسکائٹ آن سیلیکون ٹینڈم سولر سیل نے 26.9 فی صد کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو کہ موجودہ بہترین سیلیکون موڈیولز سے 7.5 فی صد بہتر ہے۔ 1.6 مربع میٹر رقبہ گھیرنے والے اور 25 کلو سے کم کا وزن رکھنے والے ان سولر پینلز کو آکسفورڈ پی وی نے گھریلو استعمال کے لیے ’آئیڈیل سائز‘ قرار دیا ہے۔

کمپنی کے فیچ ایگزیکٹیو ڈیوڈ وارڈ کا کہنا تھا کہ آکسفورڈ پی وی کا ریکارڈ ساز موڈیول سولر پاور جنریشن میں واضح جدت پیش کرتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ اعلان چین کے کمرشل سائز سولر پینل کے سورج کی روشنی کے 34.6 فی صد بجلی بنانے کے ریکارڈ کے بعد کیا گیا ہے۔